Share this link via
Personality Websites!
اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیّٖن
اَمَّا بَعْدُ! فَاَعُوْذُ بِاللہ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللہ وَعَلٰی آلِکَ وَاَصْحٰبِکَ یَاحَبِیْبَ اللہ
اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَانَبِیَّ اللہ وَعَلٰی آلِکَ وَاَصْحٰبِکَ یَانُوْرَ اللہ
نَوَیْتُ سُنَّةَ الْاِعْتِکَاف (ترجمہ: میں نے سُنَّت اعتکاف کی نِیَّت کی)
سُلطانِ کربلا، سیّدُ الشہداء، امامِ عالی مقام، امام حُسَیْن رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: میرے نانا جان، سلطانِ دوجہان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: جس کے سامنے میرا ذِکْر ہوا، پِھر اس نے درودِ پاک نہ پڑھا، بیشک وہ جنّت کا رستہ بُھول گیا۔([1])
پڑھتا رہوں کثرت سے درود اُن پہ سَدا میں اور ذِکْر کا بھی شوق پئے غوث و رضا دے([2])
اللہ پاک ہمیں کَثْرت سے درودِ پاک پڑھنے کی توفیق نصیب فرمائے، امامِ عالی مقام، امام حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ بھی درودِ پاک کی کثرت فرمایا کرتے تھے، آپ کی ظاہِری زندگی کی بالکل آخری رات جو آپ نے کربلا میں گزاری، یہ رات آپ نے عِبَادت کرتے ہوئے گزاری تھی، کتابوں میں لکھا ہے: اس رات کی اِبتدا میں آپ نے اپنے تمام اَہْلِ خانہ اور ساتھیوں کو جمع کیا*پہلے اللہ پاک کی حمد و ثنا کی*پِھر نہایت خُوبصُورت، فصیح و بلیغ الفاظ کے ساتھ اپنے نانا جان، مکی مَدَنی سلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی خِدْمت میں درودِ پاک عرض کیا۔([3])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami