Share this link via
Personality Websites!
(1):امامِ حُسَین اور شریعت کی پَاسْدَارِی
پیارے اسلامی بھائیو!امامِ عالی مقام امام حُسین رَضِیَ اللہ عنہ کی سیرتِ پاک کا انتہائی حَسِین اور پیارا پہلو ہے کہ آپ ہر دَم شریعت کے پیروکار رہتے تھے، کبھی، کسی لمحے، کسی وقت بھی آپ شریعت سے ایک انچ بلکہ ایک اِنچ کا کروڑواں حصّہ بھی پیچھے نہیں ہٹتے تھے۔ ایک خوبصُورت روایت سُناؤں، آپ حیران رہ جائیں گے۔ حضرت اِبْنِ ابی لیلی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں: میدانِ کربلا میں جب امام حسین رَضِیَ اللہ عنہ کو یہ یقین ہو گیا کہ وعدے کا وقت آ چکا ہے، اب شہادت ہونی ہے تو آپ نے فرمایا: مجھے کوئی موٹا کپڑا لا دَو! (ذرا غور سے سنیئے گا کہ آپ کپڑا کیوں منگوا رہے ہیں، فرمایا: موٹا کپڑا لا دَو!)، میں اس کپڑے کو اپنے پہنے ہوئے لباس کے نیچے رکھوں گا تاکہ جب میں شہید ہو کر زمین پر گِروں تو میرا سَتر نہ کھلے۔ آپ کی خِدْمت میں کپڑا پیش کیا گیا، آپ نے اسے اپنے پہنے ہوئے کپڑوں کے نیچے لپیٹ لیا۔([1])
اللہ اکبر! حالات دیکھئے!*کربلا کا میدان ہے*22 ہزار کا لشکر سامنے کھڑا ہے *72 تن شہید ہو چکے ہیں *حضرت علی اَصغر رَضِیَ اللہ عنہ کے گلے میں لگا ہوا ظالِم کا تیر اپنے ہاتھوں سے کھینچ کر نکالا ہے*3 دِن سے پانی بند ہے *حَلق سوکھ رہا ہے *یقین ہے کہ اب بس شہادت کا وقت ہے، رُوح نکلنے کے بعد تو آدمی مُکَلَّف بھی نہیں رہتا مگر جو اللہ پاک کی رضا کا طلب گار ہو، وہ رضا ہی چاہتا ہے، وہ کسی وقت، کسی لمحے، کسی حالت میں، کسی بھی مشکل میں اللہ پاک کی رِضا پانے سے پیچھے نہیں ہٹتا، وہ ہر وقت بس اللہ پاک کو راضی کرنے ہی کے رستے نکالتا ہے، دیکھئے! امامِ عالی مقام رَضِیَ اللہ عنہ کن حالات میں ہیں اور فِکْر کیا
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami