Share this link via
Personality Websites!
وغیرہ میں سُنّتوں کا لحاظ رکھنا تو دُور کی بات بہت سارے لوگوں کو ان سُنتوں کا عِلْم تک نہیں ہوتا۔ کاش! امامِ عالی مقام رَضِیَ اللہ عنہ کے صدقے ہمیں سُنتوں کی محبّت نصیب ہو جائے۔ حدیثِ پاک میں ہے: مَنْ اَحَبَّ سُنَّتِی فَقَدْ اَحَبَّنِیْ وَ مَنْ اَحَبَّنِیْ کَانَ مَعِیَ فِی الْجَنَّۃِ جس نے میری سُنّت سے محبّت کی، اس نے مجھ سے محبّت کی اور جس نے مجھ سے محبّت کی وہ میرے ساتھ جنّت میں ہو گا۔ ([1])
(4):امام حُسَین کی عِلْم سے محبّت
پیارے اسلامی بھائیو!بعض دفعہ لوگ سُوال پوچھتے ہیں:امام حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ کا بچپن بیان کیا جاتا ہے، پِھر اس کے بعد کربلا کا واقعہ آ جاتا ہے، اس کے درمیان جوآپ کی زندگی مبارک گزری، اس میں آپ کیا کرتے تھے؟ وہ زندگی مبارک کیسی تھی؟ آئیے! میں عرض کروں، اس دوران آپ کیا کِیَا کرتے تھے؟امامِ عالی مقام کی جو انی مبارک اور تقریباً 46 سال کی جو زندگی مبارک ہے، اس دوران آپ نے عِلْمِ دِین سیکھا اور مسجد میں رہ کر عِلْمِ دِین سکھاتے رہے۔ جی ہاں! مسجدِ نبوی شریف میں آپ درس دیا کرتے تھے، باقاعِدہ حلقہ لگتا تھا، امامِ عالی مقام رَضِیَ اللہ عنہ کے شاگرد وہاں حاضِر ہوتے اور شہزادۂِ مصطفےٰ سے عِلْمِ دِین سیکھا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ حضرت امیرِمُعَاوِیہ رَضِیَ اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا: امامِ حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ کی زیارت کہاں ہو سکتی ہے؟
اب امیر مُعَاویہ رَضِیَ اللہ عنہ کی محبّت،آپ کا ادب اور امام حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ کے مُتَعَلِّق آپ کے جذبات دیکھئے! فرمایا: مسجدِ نبوی شریف میں جاؤ! وہاں تمہیں ایک حلقہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami