Share this link via
Personality Websites!
قرآنی آیت پر عَمَل کا نِرالا انداز
پیارے اسلامی بھائیو!امامِ عالی مقام امام حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ کی سیرت کا یہ بھی حَسِین پہلو ہےکہ آپ صِرْف تِلاوت ہی نہیں کرتے تھے بلکہ قرآنِ کریم پر بہت اعلیٰ طریقے سے عَمَل بھی کیا کرتے تھے۔ اس کی صِرْف ایک مثال سنیئے! کتابوں میں لکھا ہے: آپ کی ایک کنیز تھیں۔ (پہلے دَور میں پیسوں سے خریدے ہوئے غُلام اور کنیزیں ہوتی تھیں، یہ رواج کب شروع ہوا اور اسلام نے اس تعلق سے کیا کیا تعلیمات دیں، غُلاموں کو آزاد کرنے کے کیسے کیسے فضائل بیان کئے، یہ ایک الگ عنوان ہے)، خیر! میں عرض کر رہا تھا کہ امام حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ کی ایک کنیز تھیں، ایک مرتبہ یہ کنیز آپ کی خِدْمت میں حاضِر ہوئیں تو نہایت اچھے طریقے سے سلام عرض کیا۔ امامِ عالی مقام رَضِیَ اللہ عنہ نے سلام کا جواب دیا اور ساتھ ہی فرمایا: اَنْتِ حُرَّۃٌ لِوَجْہِ اللہ جا! تُو رَبّ کی رضا کے لئے آزاد ہے۔
قریب ہی ایک شخص بیٹھا تھا، اسے حیرانی ہوئی، عرض کیا: عالی جاہ! کنیز ہے، آپ کی خِدْمت میں حاضِر ہوئی، اس نے صِرْف سلام ہی کیا ہے اور آپ نے اسے آزاد کر دیا، اس میں کیا حکمت ہے؟ اب امامِ عالی مقام رَضِیَ اللہ عنہ کا جواب سُنئے! فرمایا: اللہ پاک کا ارشاد ہے:
وَ اِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَاۤ اَوْ رُدُّوْهَاؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَسِیْبًا(۸۶)
(پارہ؛5،سورۂِ النساء:86)
تَرْ جمۂ کَنْزُالعِرْفان:اور جب تمہیں کسی لفظ کے ساتھ سلام کیا جائے تو تم اس سے بہتر لفظ سے جواب دو یا وہی لفظ کہہ دو۔بیشک اللہ ہر چیز پر حساب لینے والا ہے
اس آیت میں اللہ پاک نے حکم دیا ہے کہ سلام کرنے والا جن لفظوں سے سلام کرے، تم اس سے بہتر انداز پر جواب دو! مُعَاملہ یہ ہے کہ اس کنیز نے جتنے خُوبصُورت
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami