Share this link via
Personality Websites!
دِل محبتِ اِلٰہی میں سَر شار ہو کر مچل رہا ہو، خوفِ خُدا سے کپکپی طاری ہو، آنکھوں سے آنسو جاری ہوں، ایسی تِلاوت کی تَو مَا شَآءَ اللہ! کیا ہی شان ہے۔ اللہ پاک اپنے نیک بندوں کے پاک اَوْصاف بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:
اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِیَ ﳓ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْۚ-ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُهُمْ وَ قُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِؕ- (پارہ23،سورۃالزمر:23)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: اللہ نے سب سے اچھی کتاب اتاری کہ ساری ایک جیسی ہے، باربار دہرائی جاتی ہے۔ اس سے ان لوگوں کے بدن پر بال کھڑے ہوتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں پھر ان کی کھالیں اور دل اللہ کی یاد کی طرف نرم پڑجاتے ہیں۔
روایت میں ہے : صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم کی یہ حالت تھی کہ جب ان کے سامنے قرآنِ کریم کی تِلاوت کی جاتی تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے اور ان کے رونگٹے (یعنی جسموں پر موجُود بال)کھڑے ہو جایا کرتے تھے۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو! بدقسمتی سے اب مسلمانوں کا قرآنِ کریم کے ساتھ لگاؤ کم سے کم ہوتا جا رہا ہے، اَوَّل تو تِلاوت کرنے والے ہی بہت کم ہیں، پھر جو تِلاوتِ قرآن کی سَعَادت پاتے ہیں، ان میں بھی رونے والوں کی تَعْدَاد تَو بالکل ہی کم ہے۔ اللہ پاک ہم سب کو تِلاوتِ قرآن کرنے اور قرآنِ کریم پڑھ یا سُن کر رونے کی سَعَادت عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلّی اللہ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami