Share this link via
Personality Websites!
حالتِ جنگ میں بالکل شہادت کے قریبی وقت بھی پردے کا اہتمام فرمایا، آپ کو فِکْر تھی کہ میں جب شہید ہو جاؤں، زَخْم کھا کر گھوڑے سے نیچے آؤں تو کہیں بے پردگی نہ ہو جائے، لہٰذا آپ نے پہلے سے اس کا اہتمام فرمایا۔ اس میں اُن لوگوں کے لئے بھی سبق ہے جو پردے کا خیال نہیں کرتے *گھر میں ماں، بہن، بیٹیاں موجود ہیں، اس کے باوُجُود کتنے ایسے ہیں جو قمیض اُتار کر گھوم رہے ہوتے ہیں*ایسے ہی جو لوگ پینٹ شرٹ پہنتے ہیں اور شرٹ بھی چھوٹی رکھتے ہیں، یہ جب جھکتے یا بیٹھتے یا سجدے میں جاتے ہیں تو ناف کے نیچے کی سیدھ میں کمر کا کچھ حصّہ کھل رہا ہوتا ہے، یہ بھی سَتر میں شامِل ہے، اسے بھی چھپانا فرض ہے([1]) *آج کل لوگ نکّر(Shorts) پہنتے ہیں، گھٹنے اور رانیں نظر آ رہی ہوتی ہیں، یہ بھی بےپردگی ہے*بہت سارے کھیل ایسے ہیں جن میں نکّر پہنی جاتی ہے، کھیلنے والے نکّر پہن کر کھیل رہے ہوتے ہیں، دیکھنے والے مزے سے دیکھ رہے ہوتے ہیں، وہ بےپردگی کر رہے ہیں اور دیکھنے والے بدنگاہی کر رہے ہیں،اس سے بچنا لازِم ہے،بدنگاہی (یعنی نہ دیکھنے کا دیکھنا) اور بےپردگی (یعنی چھپانے کے اعضا کو نہ چھپانا) یہ دونوں سخت گُنَاہ ہیں۔ اللہ پاک ہمیں ان گُنَاہوں سے بچنے کی توفیق نصیب فرمائے۔منقول ہے: جو شخص اپنی آنکھ کو حرام سے پُر کرتا ہے اللہ پاک قِیامت والے دن اس کی آنکھ میں جہنّم کی آگ بھر دے گا۔([2])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami