Share this link via
Personality Websites!
اور اس کی شاخیں آسمان میں ہوں ۔
یعنی یہی قریش ہی وہ مبارَک درخت ہیں، جن کی اَصْل کرم و عزّت و الی ہے اور ان کے شَرف و عزّت (جو اللہ پاک نے انہیں اسلام کے ذریعے بخشا ہے، اس) کی شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں۔ مزید فرمایا:
ثُمَ اَنْزَلَ فِيْهِمْ سُوْرَةً مِّنْ كِتَابِ اللهِ بِمَكَّةَ
ترجمہ: اللہ پاک نے قریش کو مزید شرف یہ بخشا کہ ان کے مُتَعَلِّق مکہ پاک میں پُوری ایک سُورت نازِل فرمائی (جس میں ان کے سِوا کسی اور کا نام تک موجود نہیں ہے)، فرمایا:
لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍۙ(۱) (پارہ:30، سورۂ قریش:1)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: قریش کو مانوس کرنے کی وجہ سے۔
یہ قرآنِ کریم کی واحِد مکمل سُورت ہے جو ذِکْرِ قریش ہی سے شروع ہوتی اور انہیں پر ختم ہوتی ہے، اس پُوری سُورت میں قبیلہ قریش کے عِلاوہ کسی کا بھی ذِکْر نہیں ہے۔
اتنی حدیث شریف بیان کرنے کے بعد حضرت عَدِی بن حَاتِم رَضِیَ اللہ عنہ اپنا مُشَاہَدہ بیان کرتے ہیں، فرماتے ہیں:
مَا رَاَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذُكِرَ عِنْدَهُ قُرَيْشٌ بِخَيْرٍ قَطُّ اِلَّا سَرَّهُ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ ذٰلِكَ السُّرُوْرُ لِلنَّاسِ كُلِّهِِمْ فِي وَجْهِِهِ
ترجمہ:میں نے رسولِ پاک صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم کو دیکھا کہ جب بھی آپ کے سامنے قریش کا ذِکْرِ خیر ہوتا تو آپ اتنے خوش ہوتے کہ ان سبھی کے سامنے آپ کے چہرۂ پاک پر اِس خوشی کے آثار واضِح دکھائی دیتے تھے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami