Share this link via
Personality Websites!
یہاں سے پتا چلا؛ اللہ پاک کی عنایات کا اَصْل مرکز قومِ رسولِ ہاشمی یعنی صحابہ و اَہْلِ بیت ہیں، ہم پر جو ہدایت و عنایت کا دروازہ کُھلا ہے، ان کے صدقے اور وسیلے سے کُھلا ہے۔ پِھر ہم کیوں نہ کہیں:
میری جھولی میں نہ کیوں ہوں دوجہاں کی نعمتیں
میں ہوں منگتا میں گدا اصحاب و اہل بیت کا
فضل ربّ سے دوجہاں میں کامیابی پائے گا
دل سے جو شیدا ہوا اَصحاب و اہل بیت کا([1])
حضرت عَدِی بن حَاتِم رَضِیَ اللہ عنہ صحابئ رسول ہیں، فرماتے ہیں: ایک دِن میں محبوبِ ذیشان، مکی مَدَنی سلطان صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم کی خِدْمتِ سراپا عظمت میں حاضِر تھا، آپ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے فرمایا:
اَلَا اَنَّ اللهَ عَلِمَ مَا فِيْ قَلْبِيْ مِنْ حُبِّيْ لِقَوْمِيْ
ترجمہ: سُنو...!! میرے دِل میں میری قوم کے لیے جو محبّت ہے، اللہ پاک نے اُسے جان لیا ۔
فَشَرَفَنِيْ فِيْهِمْ فَقَالَ
چنانچہ رَبِّ کریم نے میری قوم کو شرف بخشا اور فرمایا:
وَ اِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَ لِقَوْمِكَۚ-وَ سَوْفَ تُسْــٴَـلُوْنَ(۴۴) (پارہ:25، سورۂ زخرف:44)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: اور (اے حبیب!) بیشک یہ قرآن تمہارے اور تمہاری قوم کے لیے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami