Share this link via
Personality Websites!
طلبا کی وجہ سے باقیوں کا بھی فائدہ ہو رہا ہوتا ہے۔
بِلا تمثیل (یعنی صرف سمجھانے کے لیے ) میں عرض کروں گا: قرآنِ کریم نسخۂ ہدایت سب کے لیے ہے، یہ سبق اور نصیحت سب کے لیے ہے لیکن اسے نازِل کرنے میں اَصْل مقصود محبوبِ کریم صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم کی ذاتِ پاک ہے، آپ کے وسیلے سے آپ کی قوم خاص تَوَجُّہ کے لائق ہے، باقی ہم سب کو جو یہ نصیحت مِل گئی ہے، ان کے صدقے سے ملی ہے۔
سُورۂ وَالضُّحٰی میں اللہ پاک فرماتا ہے:
وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى۪(۷) (پارہ:30، سورۂ والضحیٰ:7)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: اور اس نے تمہیں اپنی محبت میں گم پایا تو اپنی طرف راہ دی۔
یعنی اے پیارے مَحْبُوب صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم ! پُوری کائنات میں صِرْف و صِرْف آپ تھے جو ہماری محبّت میں وارفتہ تھے، صِرْف و صِرْف آپ ہی تھے جو ہماری عبادت کی خاطِر غارِ حِرا میں قیام فرمایا کرتے تھے، جس مقامِ محبّت پر آپ تھے اور کوئی نہیں تھا، لہٰذا ہم نے جبرائیل علیہ السَّلام بھیجے آپ کے لیے، قرآن اُتارا آپ کے لیے تاکہ آپ کو اپنی جانِب راہ عطا کر دی جائے۔([1])
مَعْلُوم ہوا؛ اللہ پاک کا اَصْل مقصود رسولِ کائنات صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم ہیں، آپ کے صدقے آپ کی قوم کو بھی شرف بخشا گیا اور آپ کی قوم اور قبیلے کی برکت سے ہم نکموں کی بھی بگڑی بن گئی اور ہمیں بھی نسخۂ ہدایت نصیب ہو گیا۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami