Share this link via
Personality Websites!
سے ہیں*غرض وہ سب جو آپ کے قبیلے والے ہیں، جو آپ کے ساتھ نسبی رشتہ(Family relation) رکھتے ہیں، جو آپ کے ساتھ سُسرالی رشتہ (In-laws relation) رکھتے ہیں، اے پیارے مَحْبُوب صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم ! یہ مُقَدَّس قرآن بطور خاص آپ کے لیے اور آپ کی قوم کے لیے شَرف و عزّت بھی ہے اور سبق و نصیحت بھی ہے۔
قرآن میرے لیے بھی نصیحت ہے، آپ کے لیے بھی ہے، پچھلی 15 صدیوں میں جو لوگ گزر چکے، ان کے لیے بھی نصیحت تھا اور آیندہ جو قیامت تک آئیں گے، ان سب کے لیے بھی نصیحت ہو گا۔ سُوال پیدا ہوتا ہے: پِھر اللہ پاک نے یہ کیوں فرمایا:
وَ اِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَ لِقَوْمِكَۚ-
یعنی اے پیارے مَحْبُوب صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم ! یہ قرآن آپ کے لیے اور آپ کی قوم کے لیے نصیحت ہے؟ قرآن تو سب کے لیے نصیحت ہے، محبوبِ ذیشان صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم اور آپ کی قوم کو خاص کیوں کیا گیا...؟
آپ میں جو حضرات تَدْرِیس (Teaching ) کا تجربہ رکھتے ہیں، وہ بخوبی سمجھتے ہوں گے اور جو طالِبِ عِلْم(Students) رہ چکے ہیں، اُن کو بھی اندازہ ہو گا کہ 25 طلبا کی کلاس میں اُستاد پڑھاتا سب کو ہے، اس کی بطور خاص تَوَجُّہ اُن طلبا پر ہوتی ہے، جو زیادہ محنتی ہوتے ہیں، زیادہ لائق اور زیادہ قابِل ہوتے ہیں۔ اُسْتاد گھر پر سبق کی تیاری کرتا ہے، محنت کرتا ہے، خاص اُن محنتی طلبا کے لیے، اسے فِکْر ہوتی ہے کہ باقی کچھ بن سکیں یا نہ بن سکیں مگر یہ جو 5، 10 محنتی اور باصلاحیت طلبا ہیں، ان کا مستقبل روشن ہو جانا چاہیے۔ ان محنتی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami