Share this link via
Personality Websites!
پارہ: 25، سُورۂ زُخْرُف، آیت: 44، میں نے ابتدا میں تِلاوت کرنے کی سَعَادت حاصِل کی، اللہ پاک نے فرمایا:
وَ اِنَّهٗ لَذِكْرٌ (پارہ:25، سورۂ زخرف:44)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان:اور (اے حبیب!) بیشک یہ قرآن تمہارے لیے شرف وبزرگی ہے۔
دِل میں کسی کی یاد آجانے کو ذِکْر کہتے ہیں۔([1])البتہ! اس مقام پر لفظِ ذِکْر کے 2تفسیری معانی بیان کیے گئے ہیں: (1):عزّت و شرف و بزرگی (2):سبق اور نصیحت۔([2])
معنیٰ یُوں بنے گا: (1):اے پیارے مَحْبُوب صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم ! یہ مُقَدَّس قرآن عزّت و شرف ہے (2):یا دوسرا معنیٰ ہو گا: اے پیارے مَحْبُوب صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم ! یہ قرآن سبق اور نصیحت ہے۔
سُوال پیدا ہوتا ہے: قرآن شَرف ہے تو کس کے لیے؟ سبق اور نصیحت ہے تو کس کے لیے؟ اللہ پاک نے فرمایا:
لَّكَ وَ لِقَوْمِكَۚ- (پارہ:25، سورۂ زخرف:44)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: تمہارے اور تمہاری قوم کے لیے۔
یعنی اے مَحْبُوب صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم ! آپ کی قوم* وہ اَہْلِ اِیْمان جو آپ کے عزیز ہیں*رشتے دار ہیں*آپ کے چچا حضرات*آپ کے مامُوں حضرات*آپ کے چچا کی اِیْمان دار اَوْلادَیں*وہ جو آپ کے دادا جان کی اَوْلاد سے ہیں*آپ کے پڑ دادا کی اَوْلاد
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami