Share this link via
Personality Websites!
آخر میں ساداتِ کرام کی خِدْمتِ باسعادت میں ایک دست بستہ عرض پیش کرنی ہے، ویسے میں کیا، میری اَوقات ہی کیا کہ ان بلند شان والوں کو نصیحت کروں، انہی کے رَبِّ ذیشان کا فرمان ان کی طرف بڑھا رہا ہوں، ابتدا میں جو آیتِ کریمہ ہم نے سُنی، اللہ پاک نے فرمایا:
وَ اِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَ لِقَوْمِكَۚ- (پارہ:25، سورۂ زخرف:44)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان:اور (اے حبیب!) بیشک یہ قرآن تمہارے اور تمہاری قوم کے لیے شرف وبزرگی ہے۔
اس آیتِ کریمہ کے آخر میں اللہ پاک نے فرمایا:
وَ سَوْفَ تُسْــٴَـلُوْنَ(۴۴) (پارہ:25، سورۂ زخرف:44)
تَرجَمۂ کَنزالْاِیمان: اور عنقریب تم سے پوچھا جائے گا۔
یعنی شان خصوصی ہے تو امتحان بھی خصوصی ہو گا، قرآنِ کریم قریش کے لیے شَرف و بزرگی ہے، ان کی عزّت و شان کا نشان ہے تو ان سے روزِ قیامت قرآنِ کریم کے حقوق کا سُوال بھی خصوصی ہو گا۔
لہٰذا ساداتِ کرام اپنے رَبِّ رحمٰن کے اس فرمان پر ضرور تَوَجُّہ فرمائیں۔ ہم سب کو ہی قرآنِ کریم پڑھنا، سیکھنا، سمجھنا اور اس پر عمل کرنا چاہیے، البتہ! ساداتِ کرام کے تو گھر میں اُترا ہے، لہٰذا ساداتِ کرام قرآنِ کریم کی جانِب خصوصی تَوَجُّہ فرمائیں۔ امامِ عالی مقام، امام حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ نے تَو نیزے پر بھی قرآن سُنایا بلکہ امامِ حسین، امام زین
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami