Share this link via
Personality Websites!
رکھا جائے گا، ان سے آگے ہونا بےادبی ہے۔
ایک روایت میں فرمایا:
يَا اَيُّهَا النَّاسُ لَا تَتَقَدَّمُوْا قُريْشًا فَتَهْلِكُوْا
ترجمہ: اے لوگو! قریش سے آگے نہ بڑھو! ورنہ ہلاک ہوجاؤ گے۔([1])
ایک حدیثِ پاک میں فرمایا:
يَقُومُ الرَّجُلُ مِنْ مَجْلِسِهٖ لِاَخِيْهِ اِلَّا بَنِيْ هَاشِمٍ لَا يَقُومُوْنَ لِاَحَدٍ
ترجمہ: یعنی (مجلس کے آداب میں سے ہے کہ ) آدمی اپنے بھائی کے استقبال کے لیے کھڑا ہو جائے مگر بنو ہاشِم کسی (غیر ہاشمی) کے لیے کھڑا نہ ہو۔([2])
پیارے اسلامی بھائیو! یہ میں نے چند فضائِل اور خصوصیات اَہْلِ بیتِ کرام اور ساداتِ کرام کی عرض کیں، یہ وہ خصوصیات ہیں، جو ان کو پیدائشی طَور پر حاصِل ہیں اور ہمیں سالہا سال کی محنت سے بھی حاصِل نہیں ہو سکتیں، یہ سب پیارے آقا صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم کے ساتھ رشتے داری اور نسبت کی برکت ہے۔ اندازہ لگائیے! جن کے ساتھ رشتہ ہونا اتنی فضیلتوں کا سبب ہے، خُود اُن آقا صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم کی شان و عظمت کا عالَم کیا ہو گا...؟
ہم تو بس یہی کہہ سکتے ہیں:
فرش والے تیری شوکت کا عُلُو کیا جانیں خسروا...!! عرش پہ اُڑتا ہے پھریرا تیرا([3])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami