Share this link via
Personality Websites!
الْجَنَّةِ مَا بَدَاْتُ اِلَّا بِكُمْ
ترجمہ: اے بنو ہاشِم کے گروہ! مجھے اُس ذاتِ پاک کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا! میں روزِ قیامت جب جنّت کے دروازے کی زنجیر ہاتھ میں لُوں گا (یعنی جنّت کا دروازہ کھولوں گا) تو سب سے پہلے تم سے ہی ابتدا فرماؤں گا۔([1])
پیارے نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے فرمایا:
مَنْ يُّرِدْ هَوَانَ قُرَيْشٍ اَهَانَهُ اللَّهُ
ترجمہ: جو قریش کی ذِلّت چاہے گا، اللہ پاک اسے ذلیل کر دے گا۔([2])
گویا یہ قانُونِ قُدْرت ہے، جیسے آگ جلاتی ہے، چُھری کاٹتی ہے، پہاڑ سے کُودنا موت کا سبب بن جاتا ہے، یونہی ہر سید زادے کو پیدائشی طور پر یہ شرف مِلا ہوا ہے کہ جو بھی ان کی بےادبی چاہے گا، اللہ پاک اسے ذلیل و رُسوا فرما دے گا۔
پیارے آقا صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے جمعہ کے خطبہ میں اِرْشاد فرمایا:
يَا اَيُّهَا النَّاسُ قَدِّمُوْا قُرَيْشًا وَلَا تُقَدَّمُوْهَا
ترجمہ: اے لوگو! قریش کو آگے بڑھاؤ! ان سے آگے نہ بڑھو...!! ([3])
یعنی یہ پیدائشی فضیلت ساداتِ کرام کو نصیب ہے کہ انہیں ہمیشہ اپنے سے آگے ہی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami