Share this link via
Personality Websites!
پیارے آقا صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے فرمایا:
قُرَیْشٌ خَالِصَۃُ اللہ
ترجمہ: قریش اللہ پاک کے برگزیدہ ہیں۔([1])
سُبْحٰنَ اللہ! پتا چلا؛ ہم جیسے تَو پیدا ہوتے ہیں، بڑے ہوتے ہیں، عِلْمِ دِین سیکھتے ہیں، اس پر عمل کرتے ہیں، پِھر اگر وہ اعمال قبول ہو جائیں تب کہیں جا کر اللہ پاک کے ہاں مقبولیت نصیب ہوتی ہے، اِدھر ساداتِ کرام کی شان و عظمت دیکھیے! یہ چُونکہ اَوْلادِ رسول ہیں، لہٰذا پیدائشی طَور اللہ پاک کے مَقْبول و مَحْبُوب ہیں۔
(3):قریش قیامت کے دن آگے آگے ہوں گے
پیارے مَحْبُوب صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے فرمایا:
قُرَيْشٌ عَلٰى مُقَدِّمَةِ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَوْلَا اَنْ تَبْطُرَ قُرَيْشٌ لَاَخْبَرْتُهَا بِمَا لِمُحْسِنِهَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الثَّوَابِ
ترجمہ: قریش روزِ قیامت سب لوگوں سے آگے ہوں گے اور اگر قریش کے اِتْرا جانے کا خیال نہ ہو تا تو میں انہیں بتادیتا کہ ان کے نیک کے لیے اللہ کے یہاں کیا ثواب ہے۔([2])
(4):جنّت میں پہلے قریش جائیں گے
ایک حدیثِ پاک میں فرمایا:
يَا مَعْشَرَ بَنِيْ هَاشِمٍ وَالَّذِيْ بَعَثَنِيْ بِالْحَقِّ، لَوْ اَخَذْتُ بِحَلْقَةِ بَابِ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami