Share this link via
Personality Websites!
قُرَيْشٌ صَلَاحُ النَّاسِ وَلَا تَصْلُحُ النَّاسُ اِلَّا بِهِمْ
ترجمہ: قریش لوگوں کی سَنْوَار ہیں، لوگ نہ سنوریں گے مگر قریش سے۔([1])
آپ اس حدیثِ پاک کی عملی تَصْوِیر دیکھ لیجیے! خلفائے راشدین کا دورِ پاک اِسلام کا سنہرا دَوْر (Golden age of Islam) تھا، اب قربِ قیامت جب امام مَہْدی کی خِلافت قائِم ہو گی، تب وہ سنہرا دَوْر دوبارہ آئے گا۔ پتا چلا؛ خِلافت اور لوگوں کو درست راہ پر چلانے کی صلاحیت اللہ پاک نے صِرْف و صِرْف قریش میں رکھی ہے۔
(3، 4): تیسری اور چوتھی خصوصی فضیلت کے مُتَعَلِّق فرمایا: وَ اِنَّ الْحِجَابَۃَ فِیْہِمْ وَ اِنَّ السِّقَایَۃَ فِیْہِمْ یعنی اللہ پاک نے کعبہ کی خِدْمت اور حاجیوں کی مہمان نوازی کا شرف قریش کو بخشا۔
(5): وَنَصَرَهُمْ عَلَى الْفِيْلِ اللہ پاک نے قریش کو ہاتھیوں (والے ابرہہ کی فوج ) پر فتح عطا فرمائی۔
(6): وَعَبَدُوا اللَّهَ عَشْرَ سِنِيْنَ لَا يَعْبُدُهُ غَيْرُهُمْ یعنی دُنیا میں 10 سال کا عرصہ ایک ایسا بھی آیا کہ اُن 10 سالوں میں پُوری روئے زمین پر صِرْف قریش ہی اللہ پاک کی عبادت کرتے تھے، اور کوئی بھی اللہ پاک کی عبادت کرنے والا موجود نہیں تھا۔
(7):وَاَنْزَلَ اللہ فِیْھِمْ سُوْرَۃً مِّنَ الْقُرْاٰنِ لَمْ تَنْزِلْ فِیْ اَحَدِ غَیْرِ ھِمْ اور اللہ پاک نے ان کی شان میں قرآنِ کریم کی ایک سورت ایسی اُتاری کہ ان کے علاوہ کسی کے لیے نہیں نازِل کی گئی۔([2])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami