Share this link via
Personality Websites!
سارے سید زادے قُرَیشی ہیں، پیارے آقا صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم کی اَوْلاد ہیں، یہ حدیثِ پاک بتا رہی ہے کہ ان ساداتِ کرام کو پیدائشی طَور پر وہ فضیلتیں مِل جاتی ہیں، جو ہم نکموں کو ہزاروں سال کی عبادت سے بھی ہر گز نہیں مِل سکتیں۔ وہ کیا ہیں؟ چند احادیثِ کریمہ سنیے!
پیارے آقا صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے فرمایا:
فَضَّلَ اللهُ قُرَيْشًا بِسَبْعِ خِصَالٍ لَمْ يُعْطَهَا اَحَدٌ قَبْلَهُمْ وَلَا يُعْطَاهَا اَحَدٌ بَعْدَهُمْ
ترجمہ: اللہ پاک نے قریش کو ایسی سات باتوں سے فضیلت بخشی جو نہ ان سے پہلے کسی کو ملی، نہ ان کے بعد کسی کو ملے گی۔
(1):فرمایا: اِنِّی مِنْہُم میں قُرَیشی ہوں۔([1])
اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ لکھتے ہیں: قریش کی سب سے بڑی فضیلت یہی ہے کہ اللہ پاک نے اپنے محبوب صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم کو قُرَیشی بنایا ہے۔([2])
(2): ایک مقام پر فرمایا: وَفِیْھِمُ الْخِلَافَۃُ انہیں خِلافت کا حقدار بنایا ۔([3])
یعنی مسلمانوں کا خلیفہ بننے کے لیے قُرَیشی ہونا شرطِ اَوَّل ہے، خُلفائے راشدین سب کے سب قُرَیشی تھے، اور آیندہ امام مَہْدی رحمۃُ اللہ علیہ مسلمانوں کے خلیفہ ہوں گے، وہ بھی قُرَیشی ہی ہوں گے۔ تَو اللہ پاک نے قریش کو طبعی طَور پر خِلافت کا حقدار بنایا ہے۔ ایک حدیثِ پاک میں محبوبِ کریم صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے فرمایا:
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami