Share this link via
Personality Websites!
حضرت ابراہیم بن رسول اللہ رَضِیَ اللہ عنہ ہیں اور خَالَتَاهُمَا رُقَيَّةُ وَاُمُّ كُلْثُوْمٍ اِبْنَتَا رَسُوْلِ اللہ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم ان کی خالائیں رسول اللہ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم کی بیٹیاں بی بی رقیہ واُمّ کلثوم رَضِیَ اللہ عنہما ہیں۔([1])
کہتے ہیں سب کہ پرتو حیدرحسن حسین
زینب کو ناز ہے کہ برادرحسن حسین
تنویر ہیں علی کی، وہ خوشبوئے فاطمہ
اخلاقِ مصطفیٰ کے ہیں مظہرحسن حسین
پیارے اسلامی بھائیو! مَعْلُوم ہوا؛ اولادِ رسولِ پاک صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نسب کے اعتبار سے علیحدہ ہی شان کی مالِک ہیں، ان جیسا نسب کسی اور کو نصیب نہیں ہے، اس واقعہ سے یہ بھی مَعْلُوم ہو گیا کہ جب بھی کوئی چیز تقسیم کرنی ہو تو ساداتِ کرام کے احترام کے پیشِ نظر ان کو ڈبل (Double)حِصَّہ دینا چاہیے، یہی سُنّتِ فاروقی ہے۔
اَلحمدُ لِلّٰہ! عاشقِ صحابہ و اَہْلِ بیت، شیخ طریقت، امیر اہلسنت دامت بَرَکاتُہمُ العالیہ بھی اس سُنّتِ فاروقی کے عامِل ہیں، آپ ساداتِ کرام کی بہت عزّت (Respect)کرتے ہیں، مُلاقات کے وقت اگر بتا دیا جائے کہ یہ سَیِّد صاحِب ہیں تو بارہا دیکھا گیا کہ آپ نہایت عاجزی سے سید زادے کا ہاتھ چُوم لیتے ہیں، انہیں اپنے برابر بٹھاتے ہیں، ساداتِ کرام کے بچوں سے بےپناہ محبّت اور شفقت سے پیش آتے ہیں، کچھ بانٹتے وقت ساداتِ کرام کو ڈبل حِصَّہ دیتے ہیں ، کبھی کبھی کسی سید زادے کو دیکھ کر جھوم جھوم کر پڑھنے لگتے ہیں:
[1]... الریاض النضرۃ،الباب الثانی ،فصل التاسع ،ذکر وقوفہ عند کتاب اللہ ...الخ ،جز:1 ،صفحہ:292 ، ملتقطًا۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami