Share this link via
Personality Websites!
والوں کو عطا فرما دی ہے۔
پیارے اسلامی بھائیو! حضرت جعفر طیّار رَضِیَ اللہ عنہ پیارے آقا صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم کے چچازاد ہیں، غور فرمائیے! جب چچا زاد کو آپ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم کی رشتے داری کا فائدہ نصیب ہو رہا ہے، ان کا درجہ بلند ہو رہا ہے تو وہ جو خاص آپ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم کی اَوْلادِ پاک ہیں، جن کا خمیر شریف آپ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم کے خُونِ مقدّس سے ہے، جو آپ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم کے جگر کے ٹکڑے ہیں، ان کی عظمت و شان کا عالَم پِھر کیا ہو گا...؟
پتا چلا؛ ہم جتنی مرضی عبادات کر لیں، جتنی چاہئیں نیکیاں کر لیں مگر ایک شَرف جو سید زادوں کو حاصِل ہے کہ یہ اَوْلادِ مصطفےٰ ہیں، یہ ہمیں حاصِل نہیں ہو سکتا، لہٰذا ہم ہر گز ان سے آگے نہیں بڑھ سکتے ہیں۔
حسنین کریمین کو اپنی اولاد پر ترجیح دیتے
یہاں مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ کے دورِ خِلافت کا وہ واقعہ بھی ذہن میں لائیے! ایک مرتبہ مدینۂ پاک میں مالِ غنیمت لایا گیا، حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ نے وہ مالِ غنیمت تقسیم کرنا شروع کیا، صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضْوَان آ رہے تھے، اپنا حِصَّہ لیتے جا رہے تھے، اسی دوران حضرت امام حسن مجتبیٰ رَضِیَ اللہ عنہ بھی تشریف لے آئے، حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ نے فرمایا: بِالرَّحْبِ وَالْكَرَامَةِ یعنی (خوش آمدید!) آپ کے لیے عزّت و اِحترام ہے۔پِھر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ نے انہیں ایک ہزار دِرْہم (چاندی کے سکے) پیش کیے۔ اس کے بعد امامِ حُسَیْن رَضِیَ اللہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami