Share this link via
Personality Websites!
وَكَانَ كَثِيْرًا يَّتْلُوْ هَذِهِ الْآيَةَ
ترجمہ: اور آپ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم بہت کثرت سے یہ آیتِ کریمہ تِلاوت فرمایا کرتے تھے:([1])
وَ اِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَ لِقَوْمِكَۚ- (پارہ:25، سورۂ زخرف:44)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: اور (اے حبیب!) بیشک یہ قرآن تمہارے اور تمہاری قوم کے لیے شرف وبزرگی ہے۔
سُبْحٰنَ اللہ! پیارے اسلامی بھائیو! یہ قومِ رسولِ ہاشمی یعنی پیارے محبوب صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم کے قبیلے والوں کی شانیں ہیں، یہاں سے آپ غور فرمائیے! آج بھی جو قبیلہ قریش کے افراد ہیں اور اَہْلِ ایمان ہیں، جن میں ایک بڑی تعداد ساداتِ کرام کی ہے * یہ کتنی شانوں والے ہیں *کتنی عظمتوں والے ہیں *ان کا نمازیں پڑھنا اپنی جگہ *روزے رکھنا اپنی جگہ *نیک کام کرنا اپنی جگہ، یہ سب باتیں ان کے شرف و عظمت کو مزید چار چاند لگاتی ہیں، ان سب باتوں سے ہٹ کر بھی دیکھا جائے تو حضراتِ عالی وقار پیدا ہوتے ہی کیسے کیسے شرف، عزّتیں اور عظمتیں ساتھ لے کر پیدا ہوتے ہیں؛ *قرآن ان کے لیے شَرف و بزرگی ہے *الگ سے ان کے نام کی سُورت قرآن میں اُتاری گئی *یہ مبارَک مقدس درخت ہیں، جس کی اَصْل برکت و کرم والی اور شرف و عظمت کی شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں۔
پیارے اسلامی بھائیو! یہاں سے مَعْلُوم ہوا؛ پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم کے ساتھ نسبت، قُرْبت اور رشتہ داری ہونا بذاتِ خُود ایک فضیلت ہے۔ حدیثِ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami