Share this link via
Personality Websites!
بچہ بڑا ہو کر مُعَاشرے میں کوئی بڑا اور اَہَم کردار ادا نہیں کر پاتا۔ اس لیے*اپنے ننھے بچوں کو فیزیکل اٹیچمنٹ مہیا کیجیے! *انہیں گود میں اُٹھائیے! *ان کا مُنہ چومیے! *انہیں کندھوں پر بٹھائیے! *ان کے ساتھ باتیں کیجیے! *کچھ وقت ان کے ساتھ کھیلیے!
میں آپ کو پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے پیارے پیارے انداز عرض کروں؟ سنیے *آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم حسنینِ کریمَین کا مُنہ چُوما کرتے تھے *اِن کی زبان مبارَک اپنے مُنہ میں لے کر چُوس لیا کرتے تھے *آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم حسنینِ کریمَین کو سُونگھتے تھے اور فرمایا کرتے: ہُمَا رَیْحَانَتِی یہ دونوں میرے پُھول ہیں۔([1])
عُلَمائے کرام فرماتے ہیں: بچوں کو چومنا، سُونگھنا سُنت ہے۔([2]) یہ سُنّت بھی کبھی کبھی ادا کر لینی چاہیے*پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم اپنے گھٹنے اور ہاتھ مبارَک زمین پر رکھ کر سُواری کی شکل اِخْتیار فرماتے اور حسنینِ کریمَین کو اپنی پیٹھ پر بٹھا کر جُھولے دیا کرتے تھے۔ ([3])
سُبْحٰنَ اللہ! کیسا پیارا اَنداز ہے...!! آپ تَصَوُّر کیجیے! دوجہاں کے سردار، مخلوق میں آپ سے بڑھ کر تَو کوئی شان والا ہے ہی نہیں، فرشتے جن کے قدموں کی دُھول کو پانے کے لیے ترستے ہوں، وہ مَحْبُوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم اپنے شہزادوں کے لیے کیسے کیسے انداز اِخْتیار فرماتے تھے۔ سُبْحٰنَ اللہ!
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami