Share this link via
Personality Websites!
بن پاتا *بچوں کو کھلونے لے دیتے ہیں *بچوں کے لیے کھانے پینے کا اہتمام بہترین کر دیتے ہیں *مہینے میں ایک آدھ مرتبہ گھمانے پِھرانے لے جاتے ہیں *اس کے عِلاوہ بچوں کو موبائِل (Mobile) پکڑایا، ویڈیو گیم (Video game) لگا کر دی، بَڑی ایل سی ڈی پر کارٹون (Cartoon) لگا کر دئیے اور سائیڈ پر بٹھا دیا۔
پیارے اسلامی بھائیو! یہ انتہائی خطرناک مُعَاملہ ہے، ہمارے اِن رَوَیّوں کی وجہ سے *جنریشن گیپ آ رہا ہے، اَوْلاد اور ماں باپ کے درمیان دُوریاں بڑھ رہی ہیں *اس سے بچوں کے ذہن میں خوف بیٹھ جاتا ہے، تحفّظ کا احساس کم ہو جاتا ہے *خُود اعتمادی کم ہوتی ہے *طبیعت (Nature) کے اندر رُوکھا پَن پروان چڑھتا ہے، آپ دیکھتے ہوں گے؛ ہمارے مُعَاشرے (Society) میں کتنے ہی لوگ بالکل رُوکھی طبیعت کے ہوتے ہیں، اُن کے چہرے پر مسکراہٹ کبھی سالوں کے بعد آتی ہے، مِلنے جلنے میں بہت رُوکھی طبیعت کے ہوتے ہیں، یہ عموماً وہی لوگ ہوتے ہیں، جن کو بچپن میں والِدَین سے فیزیکل اٹیچمنٹ نہیں ملتی *یہ بات یاد رکھیے! بچے کی پیدائش سے لے کر 5 سے 7 سال تک کا جو عرصہ ہوتا ہے، یہ بچے کی جذباتی نشو و نُما (Emotional Growth) کا عرصہ ہوتا ہے، اِس میں بچہ غلط صحیح (Right and wrong) نہیں سیکھتا، اِس عمر میں بچہ جذبات سیکھتا ہے۔ اِس عمر میں تَو ہم نے اس کو بےجان کھلونے پکڑا دئیے، گُڑیا، کارَیں، موبائِل تھما دیا، اب اس کا وقت بےجان چیزوں کے ساتھ گزر رہا ہے، تَو وہ اپنا اندر کس کے ساتھ کھولے گا، اپنے جذبات کس پر ظاہِر کرے گا؟ اَبُّو جان کمانے کی فِکْر میں رہتے ہیں، اَمِّی جان کو گھر کے کاموں سے فرصَت نہیں ملتی، بچہ بے جان چیزوں کے ساتھ پروان چڑھ رہا ہے۔ نتیجۃً بچے کے جذبات گھٹن کا شِکار ہو جاتے ہیں، پِھر وہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami