Share this link via
Personality Websites!
پیارے اسلامی بھائیو! یہ روایت جو ابھی میں نے آپ کو سُنائی، اس سے ملنے والے 2سبق عرض کرتا ہوں:
(1):بچوں کے ساتھ فیزیکل اٹیچمنٹ
اِس روایت سے پہلا سبق یہ ملتا ہے کہ ایک والِد ہونے کی حیثیت سے ہمارا بچوں کے ساتھ تَعَلُّق کیسا ہونا چاہیے۔ یقیناً سبھی ماں باپ اپنی اَوْلاد سے محبّت کرتے ہیں، بےپناہ محبّت کرتے ہیں مگر اَوْلاد کے ساتھ جو فیزیکل اٹیچمنٹ (Physical attachment) ہے نا؛ یہ آج کم سے کم ہوتی جا رہی ہے*والد صاحب کمانے کی فِکْر میں اتنے مصروف ہو جاتے ہیں کہ بچوں کو گود میں اُٹھانے کا موقع نہیں ملتا *جو غریب ہیں، محنت مزدُوری کرتے ہیں، وہ دِن بھر محنت مشقت کر کے تھک جاتے ہیں، گھر آتے ہی بچوں کو سائیڈ پر کر دیا جاتا ہے کہ اَبُّو جان تھکے ہارے آئے ہیں، اب انہیں کچھ نہیں کہنا، ان کے قریب نہیں جانا، اگر محبّت کی پیاس رکھنے والے بچے خُود والِد صاحب کی طرف بڑھتے ہیں تو دِن بھر کام کر کے تھکاوٹ اتنی ہوئی ہوتی ہے، چِڑچِڑا پَن آیا ہوتا ہے، بچوں کو ڈانٹ کر پیچھے کر دیا جاتا ہے *اور جو امیر لوگ ہیں، جو آفس میں اے سِی کے نیچے بیٹھ کر پُرسکون ماحول میں کام کرتے ہیں، اگرچہ انہیں اُس طرح تھکاوٹ نہیں ہوئی ہوتی مگر ان کا دِماغی کام ہوتا ہے، دِن بھر کام کر کے دِماغ تھک چُکا ہوتا ہے، پِھر آج کل ہمارا دفتر (Office) کا ماحَوْل جیسا بنتا ہے، فُلاں افسر سے ڈانٹ سُنی، فُلاں فائِل کا مسئلہ بن گیا، پِھر گھر آ کر بھی کام والوں کے فُون آ رہے ہوتے ہیں، اس صُورتِ حال میں بچوں کے ساتھ فیزیکل اٹیچمنٹ کا موقع نہیں
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami