Share this link via
Personality Websites!
علّامہ بغوی رحمۃُ اللہ علیہ لکھتے ہیں: اس آیتِ کریمہ کا ایک معنیٰ یہ ہے کہ (اے لوگو! میں تمہیں دِین سکھاتا ہوں، تمہاری دُنیا و آخرت کی بھلائیاں تم تک پہنچاتا ہوں) اِس پر میں تم سے کسی قسم کا کوئی اَجْر، کوئی بدلہ نہیں چاہتا، البتہ! میں تمہیں قرابت داری کی محبّت کی نصیحت کرتا ہوں۔ اِس سے مَعْلُوم ہوا؛ پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی محبّت، آپ کے رشتے داروں (Relatives)کی محبّت دِین کے فرائِض میں سے ہے۔([1])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
حضرت اُسَامَہ بن زید رَضِیَ اللہ عنہ عظیم صحابئ رسول ہیں، پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے مَحْبُوب اور پیارے تھے۔ حدیث شریف میں ہے:
مَنْ كَانَ يُحِبُّ اللهَ وَرَسُوْلَهُ، فَلْيُحِبَّ اُسَامَةَ
ترجمہ: یعنی جو اللہ و رسول سے محبّت کرتا ہے، اس پر لازم ہے کہ اُسَامہ سے محبّت کرے۔([2])
اللہ کا مَحْبُوب بنے جو تمہیں چاہے اُس کا تَو بیاں ہی نہیں کچھ تم جسے چاہو([3])
ترمذی شریف جو حدیثِ پاک کی بہت مشہور کتاب ہے، اِس میں روایت ہے، حضرت اُسَامہ بن زید رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ رات کا وقت تھا، مجھے کچھ حاجت پیش آئی اور میں اپنی اُس حاجت کے لیے پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami