Share this link via
Personality Websites!
وضاحت: جو اَہْلِ بیتِ پاک سے محبّت کرتے، ان کی تعریفیں بیان کرتے ہیں، ان کے لیے جنّت کے باغ ہیں اور جو دُشمنِ اَہْلِ بیت ہے اس کے لیے جہنّم کی وعید ہے۔
سچّا عاشِقِ اَہْلِ بیت کون...؟
آخر میں ایک اَہَم وضاحت (Important explanation) سُن لیجیے! ہم نے اَہْلِ بیتِ پاک سے محبّت کرنی ہے مگر اَہْلِ بیت کی سچّی محبّت کسے کہتے ہیں؟ یہ بھی سمجھ لیجیے! روایت ہے: ایک دِن حضرت امیرِ معاویہ رَضِیَ اللہ عنہ خطبہ دے رہے تھے، اتنےمیں امامِ عالی مقام، امام حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ تشریف لے آئے، حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہ عنہ نے جلدی سے خطبہ مکمل کیا اور منبر سے نیچے اُتر گئے، اب حضرت امامِ حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ منبر پر تشریف لائے، آپ نے اللہ پاک کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا: مجھے میرے نانا جان نے بتایا کہ اللہ پاک فرماتا ہے: عرشِ اعظم کے پائے کے نیچے سبز رنگ کی ایک تختی ہے، اس پر لکھا ہے: اے آلِ مُحَمَّد کے گروہ! تم میں سے جو بھی روزِ قیامت لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کی گواہی دیتا ہوا آئے گا، اللہ پاک اسے جنّت میں داخِل فرما دے گا۔
یہ سُن کر حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہ عنہ نے پوچھا: اے ابوعبد اللہ (یعنی امام حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ )! آلِ مُحَمَّد کا گروہ کون ہے؟ فرمایا: وہ جو شَیْخَیْن یعنی ابو بکر و عمر کو، عثمانِ غنی کو، میرے والِدِ محترم مولیٰ علی کو اور اے مُعَاویہ! آپ کو بُرا بھلا نہ کہتا ہو، وہ آلِ مُحَمَّد کا گروہ ہے۔([1])
سُبْحٰنَ اللہ! مَعْلُوم ہوا؛ جو صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم کا بھی اَدَب کرتا ہے، 4یارانِ نبی کا بھی ادب کرتا ہے اور خَالُ المؤمنین (یعنی سب مسلمانوں کے مامُوں جان) حضرت امیر معاویہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami