Share this link via
Personality Websites!
بڑے کامِل ولی تھے، ساداتِ کرام کے ادب پر بہت زَور دیا کرتے تھے، فرماتے ہیں: ساداتِ کرام کے حُقوق میں سے یہ حق بھی ہے کہ ہم ان پر اپنی جانیں قربان کر دیں کیونکہ یہ حُضُورِ اکرم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کے جگر کے ٹکڑے ہیں *ساداتِ کرام کے آداب میں سے ہے کہ ان کے سامنے خُود کو نہ دیکھیں (یعنی ان کے سامنے انتہائی عاجزی سے پیش آئیں، اپنی ضروریات ان پر قربان کریں) *خُود کو ان پر ترجیح نہ دیں *سیِّد صاحِب چاہے بےعِلْم بھی ہوں، پِھر بھی ان کا ادب بجا لائیں *حضرت علی خوّاص رحمۃُ اللہ علیہ مزید فرماتے ہیں: اپنی خَواہشَات پر ساداتِ کرام کی رضا کو مُقَدَّم رکھیں اور ان کی پُوری تعظیم کریں ۔([1])
اہل بیت سے بغض رکھنے والوں کا انجام
پیارے اسلامی بھائیو! جس طرح اَوْلادِ مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم سے محبّت رکھنے کے بےشُمار فضائل اور برکتیں ہیں، ایسے ہی ان سے بغض و عداوت رکھنے کی بڑی سخت وعیدیں بھی ہیں۔ چنانچہ
اہل بیت سے دشمنی رکھنے والا جہنمی
حضرت عبد اللہ بن عبّاس رَضِیَ اللہ عنہما سے روایت ہے، سرکارِ ذیشان، مکی مدنی سلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: اگر کوئی شخص کعبہ شریف اور مقامِ ابراہیم کے درمیان نمازیں پڑھے، وہیں رہ کر روزے رکھے، پِھر وہ اَہْلِ بیت کی دُشمنی پر مر جائے تو وہ جہنّم میں جائے گا۔([2])
باغ جنّت کے ہیں بہرِ مدح خوانِ اَہْلِ بیت تم کو مژدہ نار کا اے دُشمنان اَہْلِ بیت([3])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami