Share this link via
Personality Websites!
کی پیروی کرتے ہو*نیک لوگوں کی خدمت کرتے ہو*اپنے مسلمان بھائیوں کی خیرخواہی (یعنی انہیں نصیحت) کرتے ہو *اور (سب سے بڑھ کر اہم بات) میرے صحابہ کرام اورمیرے اہلِ بیت اطہار ( رَضِیَ اللہ عنہم) سے محبّت کرتے ہو۔ یہی وہ اسباب ہیں کہ جس نے تمہیں نیک لوگوں کی منازل تک پہنچا دیاہے۔([1])
حُبِّ اہلِ بیت دے آلِ مُحَمَّد کے لیے کر شہیدِ عِشق حمزہ پیشوا کے واسطے
دو جہاں میں خادمِ آلِ رسول اللہ کر حضرتِ آلِ رسولِ مقتدا کے واسطے([2])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
سرکارِ نامدار، دوعالم کے مالِک و مختار صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: لَا یُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ نَفْسِہٖ کوئی بندہ اس وَقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کو اس کی جان سے زِیادہ پیارا نہ ہوجاؤں، وَتَکُوْنَ عِتْـرَ تِیْ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ عِتْـرَ تِہٖ اورمیری اَولاد اس کو اپنی اَولادسے پیاری نہ ہو، وَذَاتِیْ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ ذَاتِہٖ اور میری ذات اسے اپنی ذات سے بڑھ کر محبوب نہ ہو، وَیَکُوْنَ اَہْلِیْ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ اَہْلِہٖ اور میرے اہلِ بیت اسے اپنے گھر والوں سے بڑھ کرپیارے اور محبوب نہ ہوں۔([3])
محبّتِ اَہْلِ بیت عشقِ رسول کا نتیجہ ہے
حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ عنہما سے روایت ہے، تاجدار مدینہ، راحتِ قلب و
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami