Share this link via
Personality Websites!
ہے، سالہا سال استقامت کے ساتھ اس نصاب کو پُورا کرتا ہے، تب کہیں جا کر یہ رُتبہ ملتا ہے کہ اللہ پاک اپنے فضل و کرم سے اُسے اپنا مَحْبُوب بنا لیتا ہے۔
مگر قربان جائیے! پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے اَہْلِ بیت کی کیسی نِرالی شان ہے، یہی تاثِیر جو اللہ پاک نے فرائِض اور نوافِل میں رکھی ہے، یہی تاثِیر اَہْلِ بیتِ پاک کی محبّت میں بھی رکھ دی گئی ہے کہ جو ان سے محبّت کرتا ہے، اللہ پاک اسے اپنا مَحْبُوب بنا لیتا ہے۔
شیخ اَمَان پانی پتّی رحمۃُ اللہ علیہ ایک نیک بزرگ ہوئے ہیں، آپ فرماتے ہیں: میرے نزدیک دَرْوَیشی 2چیزوں کا نام ہے: (1):حُسْنِ اَخْلاق (2):محبّتِ اَہْلِ بیت۔([1])
دِل سے جو شیدا ہوا اَصْحاب و اَہْلِ بیت کا
تیمور لنگ تیموری سلطنت کے بانی اور پہلے حکمران ہیں۔شیخ زینُ الدِّیْن بغدادی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: تیمور لنگ مرضُ المَوْت (یعنی وہ آخری بیماری جس کے سبب ان کی وفات ہوئی، اس) میں مُبتَلا تھے،ایک دِن شدید غم کی وجہ سے ان کا چہرہ سیاہ (Dark)ہو گیا، رنگ بدل گیا، کچھ دَیْر بعد جب حالت سنبھلی تو لوگوں نے صُورتِ حال بتائی کہ بیماری کی شِدَّت (Intensity)کے سبب اچانک آپ کا چہرہ سیاہ ہو گیا تھا، رنگ بدل گیا تھا، اِس پر تیمور لنگ نے کہا: میں نے عذاب کے فرشتے دیکھے تھے، وہ میری طرف آ رہے تھے، انہیں دیکھ کر مجھ پر شدید غم(Intense Sadness) کا غلبہ ہوا جس کی وجہ سے میرا رنگ کالا ہو گیا تھا،
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami