Share this link via
Personality Websites!
تاثِیر ہے، یونہی یہ اَہْلِ بیتِ پاک کی خصوصیات میں سے ایک بڑی خصوصیت ہے کہ ان کی محبّت مسلمان کو اللہ پاک کا مَحْبُوب بنا دیتی ہے۔
بُخاری شریف میں حدیثِ قدسی ہے، اللہ پاک فرماتا ہے: میرا قُرْب پانے کا سب سے بہترین ذریعہ فرائِض کی ادائیگی ہے۔
یعنی بندہ نمازیں پڑھے، روزے رکھے، ماں باپ کی خِدْمت کرے، سُودِی لَین دَین سے بچے، حلال کھائے، حرام کی طرف آنکھ بھی نہ اُٹھائے، اور جتنے فرائِض ہیں، سب پُورے کرے، اس سے بندے کو اللہ پاک کا قُرب ملتا ہے۔
مزید فرمایا: بندہ نوافِل کے ذریعے سے مسلسل میرا قرب حاصِل کرتا رہتا ہے، کرتا رہتا ہے، حَتّٰی اَحْبَبْتُہٗ یہاں تک کہ میں اس بندے کو اپنا مَحْبُوب بنا لیتا ہوں۔ ([1])
یہ گویا کہ محبوبِ اِلٰہی بننے کا نصاب بتایا جا رہا ہے، بندہ فرائِض پُورے کرے، پِھر ساتھ ہی ساتھ نوافِل کی کثرت کرے، پانچ نمازیں تو پڑھتا ہے، تَہَجُّدبھی پڑھے، اشراق، چاشت بھی پڑھے، اَوَّابِین کے نوافِل بھی پڑھے*رمضان کے روزے تَو رکھتا ہے، ساتھ ہی نفل روزے بھی رکھا کرے *فرض حج تَو کر لیا، اب توفیق ملی ہے تو نفل حج بھی کرتا رہے *زکوٰۃ تو دیتا ہے، ساتھ ہی نفلی صدقات بھی دیتا رہے *اپنی اَوْلاد، ماں باپ وغیرہ جن کا خرچ اُٹھانا فرض ہے، ان کا تو اُٹھاتا ہے، ساتھ ہی ساتھ دوسروں کی خیر خواہی بھی کرتا رہے۔ یُوں جب بندہ فرائِض اور نوافِل کی کثرت کرتا رہتا ہے، کرتا رہتا
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami