Share this link via
Personality Websites!
اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیّٖن
اَمَّا بَعْدُ! فَاَعُوْذُ بِاللہ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللہ وَعَلٰی آلِکَ وَاَصْحٰبِکَ یَاحَبِیْبَ اللہ
اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَانَبِیَّ اللہ وَعَلٰی آلِکَ وَاَصْحٰبِکَ یَانُوْرَ اللہ
نَوَیْتُ سُنَّةَ الْاِعْتِکَاف (ترجمہ: میں نے سُنَّت اعتکاف کی نِیَّت کی)
فرمانِ آخری نبی، مکی مدنی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم:
صَلُّوْا عَلَیَّ وَاجْتَہِدُوْا فِي الدُّعَاءِ وَقُولُوْا اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ
ترجمہ: یعنی مجھ پر درود پاک بھیجو اور دُعا میں خوب کوشش کرو اور کہو: اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو! اس حدیثِ پاک میں درودِ پاک پڑھنے اور دُعا میں خوب کوشش کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اِس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دُعا اور درود کا آپس میں بہت گہرا تَعَلُّق ہے، مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت فارُوقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ کا فرمان ہے: دُعا زمین وآسمان کے درمیان لٹکی رہتی ہے، جب درودِ پاک پڑھا جائے تو اُوپَر کو پرواز کر جاتی ہے۔ ([2])
عُلَمائے کرام فرماتے ہیں: دُعا کی مثال ایک پرندے(Birds) جیسی ہے اور درود اس کا شَہْ پَر (یعنی سب سے مَضْبُوط پَر) ہے، اِسی کے ذریعے دُعا آسمانوں کی طرف پرواز کرتی ہوئی، اللہ پاک کی بارگاہ میں پہنچتی اور قبول ہوتی ہے۔([3]) لہٰذا ہمیں چاہیے کہ دُعائیں بھی کَثْرت سے مانگا کریں کہ دُعا خُود عبادت بلکہ عِبَادت کا مغز ہے اور ہر دُعا کے اَوَّل، آخر درودِ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami