Share this link via
Personality Websites!
آخری نبی صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم : (1): توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اُس نے گُناہ کیا ہی نہیں۔ ([1]) (2): بندہ جب گُناہ کرتا ہے تو اس کے دِل پر ایک سیاہ نکتہ لگ جاتا ہے، پھر اگر وہ توبہ کر لے تو وہ نکتہ مٹا دیا جاتا ہے۔([2]) *سچی توبہ سے عمر بڑھتی اور رزق میں اِضافہ ہوتا ہے *اِسْتِغْفار سے تنگی اور غم دُور ہوتے ہیں حدیثِ پاک میں ہے: جو ہمیشہ اِسْتِغْفار کرتا ہے، اللہ پاک اس کے لئے ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ بناتا، ہر فکر وغم سے اسے نجات عطا فرماتا اور ایسی جگہ سے اسے رزق دیتا ہے جہاں سے اُس کا گمان بھی نہیں ہوتا۔ ([3])
توبہ نہ کرنے اور گُناہ پر اڑے رہنے کے نقصانات
*گُنَاہ پر اَڑنا شیطانی طریقہ ہے *گُنَاہ پر اَڑنا ظلم ہے *گُنَاہ پر اَڑنا جہنّم میں لے جانے والا کام ہے *گُناہ پر اڑے رہنے سے نیکیوں کی توفیق نہیں ملتی نہ عِبَادت میں لذّت نصیب ہوتی ہے*گُنَاہ پر اَڑنا یعنی توبہ کی توفیق نہ ملنا بھی عذاب کی ایک صُورت ہے *گُنَاہ پر اَڑنا اللہ پاک کی ناراضی کا سبب ہے ۔تفسیر صاوی میں ہے : جو توبہ نہ کرے، کفر اور گناہوں پر قائِم رہے،وہ خوف اور مرض میں مبتلا رہے گا، اُسے اللہپاک کی ناراضی کا سامنا بھی ہوگا اگرچہ دنیا کی لذّتیں اُس پر وسیع ہو جائیں، ایسی عیش اور دنیا کی لذّتوں میں کوئی بھلائی نہیں، جس کے بعد جہنّم ہو۔([4])
گناہوں سے توبہ کرنے کا ذہن بنانے کے لیے
* توبہ کے فضائل وفوائد ذہن میں رکھیے *گُناہ کرنے کی وعیدات وعذبات کا مُطالعہ کیجیے *موت کو کثرت سے یاد کیجیے *قیامت کے دِن ہونے والے حساب کو یاد کیجیے ! غور کیجیے !اگر آج گناہوں سے توبہ نہ کی ،قیامت کے ہوش رُبا منظر میں جب سورج آگ برسا رہا ہوگا ،زمین تانبے کی ہوگی ،ہر کسی کو اپنی اپنی پڑی ہوگی ،ایسے عالَم میں اللہ پاک کی بارگاہ میں گُناہوں کا حِساب کیسے دے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami