Share this link via
Personality Websites!
گُناہ کو اللہ پاک کی نافرمانی سمجھ کر ، اِس پر نادِم وشرمندہ ہوتے ہوئے فوراً چھوڑ دینا ، پھر آئندہ کبھی بھی گُناہ نہ کرنے کا پختہ اِرادہ کرنا اور اِس کی تلافی کرنا (یعنی جو کمی ہوئی ،وہ پوری کرنا )،توبہ ہے۔ ([1])
وضاحت: توبہ کی 3 شرائط ہیں:(1): گُناہ پر ندامت اور شرمندگی ہونا (2):اُس گُناہ کو چھوڑدینا (3):آئندہ گُناہ نہ کرنے کا پکا اِرادہ کرنا ۔ اگر کوئی ایک شرط بھی نہ پائی گئی تو توبہ صحیح نہ ہوگی۔ ([2])
پیارے اسلامی بھائیو! گُناہ 3 طرح کے ہیں :(1): اللہ پاک اور بندے کے درمیان ہونے والے ایسے گُناہ جن کی تَلافی نہیں ہوسکتی ،جیسے شراب پینا ،گانے باجے گانا ،سُننا وغیرہ اس طرح کے گُناہوں سے ذِکر کردہ 3 شرائط کے ساتھ توبہ کرنا لازِم ہے (2):حقوقُ اللہ کے مُتَعَلِّق ایسے گُناہ جن کی تَلافی کرنا لازِم ہوتی ہے، ایسے گناہوں سے توبہ کرنے کے ساتھ ساتھ تَلافی کرنا بھی ضروری ہے ورنہ توبہ صحیح نہیں۔ مثلاً :*نمازیں یا روزے چھوٹے ہوں تو قَضا کرنا *پچھلے سالوں کی زکوٰۃ جو پہلے ادا نہ کی ہو،حِساب لگا کر نکالنا (3): حقوقُ العِباد کے مُتَعَلِّق گُناہ۔ایسے گُناہوں سے توبہ کرنے میں یہ بات بھی لازِم ہے کہ جو حقوق ضائع کیے ان کی ادائیگی کرے ،مثلاً * :جس کا حق ماراہے، اس کا حق ادا کرے یا مُعَاف کروائے۔جیسے *..کسی کا مال چھینا ہو یا *..سُود*.. چوری *..رشوت وغیرہ میں لیا ہو تو جس کا وہ مال ہے اُسے لوٹائے *کسی پر ظُلم کیا، تھپڑ مارا تو مُعَاف کروائے یا بدلہ دے وغیرہ۔ ([3])
اللہ پاک نے فرمایا:
فَاِنَّهٗ كَانَ لِلْاَوَّابِیْنَ غَفُوْرًا(۲۵) (پارہ:15،بنی اسرائیل :25)
تَرْجَمَۂ کنز ُالعرفان:تو بیشک وہ توبہ کرنے والوں کو بخشنے والا ہے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami