Share this link via
Personality Websites!
ہیں، برکت کے لیے ایک آیتِ کریمہ سنیے!اللہ پاک فرماتا ہے:
فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَۚ- (پارہ:28، سورۂ تحریم:4)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:تو بیشک اللہ خود اُن کا مددگار ہے اور جبریل اور نیک ایمان والے۔
حضرت عبد اللہ بن مَسْعُود رَضِیَ اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولِ اَکْرَم، نُورِ مُجَسَّم صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا: صَالِحُ الْمؤْمِنِیْنَ اَبُوْ بَکْرٍ وَّ عُمَرُ یعنی اس آیت میں نیک مؤمنین سے مراد ابو بکر صدیق اور عمر فاروق اعظم ( رَضِیَ اللہ عنہما )ہیں۔([1])
حق عمر کے دِل میں رکھ دیا گیا ہے
حدیثِ پاک میں ہے: اِنَّ اللہ جَعَلَ الْحَقَّ عَلیٰ لِسَانِ عُمَرَ وَ قَلْبِہٖ بےشک اللہ پاک نے عمر کی زبان اور دِل پر حق رکھ دیا ہے۔([2])
ایک حدیثِ پاک میں ہے: انبیا کے سَرْوَر، آقائے عمر صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: آسمان پر کوئی فرشتہ نہیں مگر وہ عمر کی عزّت کرتا ہے اور زمین پر کوئی شیطان نہیں مگر وہ عمر سے دُور بھاگتا ہے۔([3])
پیارے اسلامی بھائیو! حضرت عمر رَضِیَ اللہ عنہ کا بہت مشہور و مَعْرُوف لقب ہے: فَارُوق۔ یہ اتنا مشہور لقب ہے کہ بہت ساروں کو تو پتا ہی نہیں ہو گا کہ آپ کا اَصْل نام صرف عُمَر ہے۔ عمومًا لوگ عمر فاروق ہی کو آپ کا نام سمجھتے ہیں۔ حالانکہ عُمر آپ کا نام ہے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami