Share this link via
Personality Websites!
ہے اور انہیں سننا، سنانا، یاد کرنا بھی غلط ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے، پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اگر تم میں سے کسی شخص کا پیٹ پِیپ سے بَھر جائے تو اس سے بہتر ہے کہ اس کا پیٹ شعروں سے بھرا ہو۔ ([1])
پیارے اسلامی بھائیو! اللہ پاک ہمیں دُنیا و آخرت کی بھلائیاں نصیب فرمائے۔ بات آئی ہی ہے تو یہ بھی سُن لیجیے کہ شاعِر کو کیسا ہونا چاہیے...؟ اللہ پاک فرماتا ہے:
اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ ذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا (پارہ:19، سورۂ شُعَراء:227)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:مگر وہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے اعمال کیے اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا۔
یعنی شاعِر میں 3وَصْف ہونے چاہیے: (1):اُس کا اِیْمان پکّا ہو ؛ اِس سے اِشَارَہ ملتا ہے کہ شاعِر کو کفریہ کلمات کے مُتَعَلِّق گہرا عِلْم ہونا چاہیے، ورنہ شاعِر حضرات شعروں کے وَزَن نبھاتے نبھاتے کفریہ کلمات بھی لکھ ڈالتے ہیں (2):نیک کام کرنے والا ہو ؛ آج کل اس پر تَوَجُّہ دینے کی بہت حاجت ہے، ہمارے ہاں شاعِر ہو اور نشے، بےپردگی، فحاشی وغیرہ چکروں میں نہ پھنسے، بہت مشکل بات ہے (3):ذِکْرُ اللہ کی کثرت کرنے والا ہو، عُلَمائے کرام نے فرمایا: اِس کا معنیٰ یہ ہے کہ وہ شاعِری بھی کرے تَو ذِکْرُ اللہ پر مشتمل کرے، اللہ پاک کی حمد لکھے، نعتیں لکھے، صحابہ و اَہْلِ بیت اور اَوْلیائے کرام کی منقبتیں لکھے، عِشْقِيَہ ، فِسْقِيَہ شاعِری کی طرف ہر گز نہ بڑھے۔ ([2])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami