Share this link via
Personality Websites!
فِیْ كُلِّ وَادٍ یَّهِیْمُوْنَۙ(۲۲۵) وَ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَۙ(۲۲۶) (پارہ:19، سورۂ شُعَراء:224-226)
توگمراہ لوگ کرتے ہیں۔ کیا تم نے نہ دیکھا کہ شاعر ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں ۔ اور یہ کہ وہ ایسی بات کہتے ہیں جو کرتے نہیں ۔
یعنی شُعَراء (Poets) کی یہ عادَت ہوتی ہے کہ *جھوٹے اور باطِل اشعار لکھتے ہیں *بےحیائی اور فحاشی کی باتیں کہتے ہیں*کبھی فخرو تکبّر سے بھر کر اپنی ہی تعریفیں کرنے لگتے ہیں*کبھی دوسروں کی مذَمَّت پر تُل جاتے ہیں*تعریف کرنے پر آئیں تو زمین آسمان ایک کر دیں*بُرائی کرنے پر آئیں تو بڑے بڑوں کو نیچا دِکھا ڈالیں، فرمایا:
یَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَؕ(۲۲۴)
یعنی ایسے بےعِلْم شاعِروں کی پیروی کرنا، اُن کے اَشْعار سننا، یاد کرنا، دوسروں کو سُنانا سب گمراہی ہے۔ ([1])
ایسے شاعِروں کا اَنْجام کیا ہے؟ سنیے! اللہ پاک نے فرمایا:
وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ۠(۲۲۷) (پارہ:19، سورۂ شُعَراء:227)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اورعنقریب ظالم جان لیں گے کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔
یعنی روزِ قیامت جب انہیں جہنّم میں ڈالا جائے گا تو دیکھ لیں گے کہ جہنّم کی کس کروٹ پر پلٹا کھاتے ہیں۔ ([2])
بےحیائی بھرے شعر یاد کرنا کیسا...؟
پیارے اسلامی بھائیو! پتا چلا؛ بےحیائی بھرے، عِشْقِيَہ ، فِسْقِيَہ اشعار کہنا بھی غلط
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami