Share this link via
Personality Websites!
اسلام کے دشمنوں اور ظالموں کے خلاف ننگی تلوار تھے ، اُن پر لاکھوں سلام ہوں۔
پیارے اسلامی بھائیو! اس رِوایت کی روشنی میں حضرت اَسْوَد رَضِیَ اللہ عنہ کی محتاط طبیعت (Cautious nature) پر غور فرمائیے! اللہ پاک کی حمد لکھنے والا، نعتِ مصطفےٰ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم لکھنے والا شاعِر ہونا بہت سعادت کی بات ہے، اِس کے ساتھ ساتھ حضرت اَسْود رَضِیَ اللہ عنہ کی احتیاط مرحبا...!! آپ اپنے اشعار بارگاہِ رسالت میں پیش کرتے اور اُن کی تَفْتِیش (Review) کروا لیا کرتے تھے۔
آج کل ہمارے ہاں بھی لوگوں کو شاعِرِی کا شوق ہوتا ہے بلکہ آج کل یہ ایک فیشن بھی بنتا جا رہا ہے، بعض تَو بہت کم پڑھے لکھے ہوتے ہیں، دِینی معلومات تَو بالکل ہی کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں، اِس کے باوُجُود وہ حمدِیَہ اشعار لکھتے ہیں، نعتیں لکھتے ہیں اور ایسی ایسی غلطیاں کر جاتے ہیں کہ اَلْاَمَان وَالْحَفِیْظ...!! بلکہ عام دُنیوی اشعار جو لکھتے ہیں اُن میں بھی غلطیوں کی بھرمار ہوتی ہے بعض دفعہ تَو کفریہ کلمات بھی لکھ ڈالتے ہیں اور اُنہیں پتا تک نہیں ہوتا۔ پِھر شرعِی تَفْتِیش...!! اس کا تَو ہمارے ہاں رِواج ہی نہیں ہے، دِماغ میں دُور دُور تک خیال بھی نہیں ہوتا کہ یہ بھی کوئی کرنے کا کام ہے۔ بَس جو ذِہن میں آتا ہے لکھتے چلے جاتے ہیں۔
اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
وَ الشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَؕ(۲۲۴) اَلَمْ تَرَ اَنَّهُمْ
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اور شاعروں کی پیرو ی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami