Share this link via
Personality Websites!
سُناؤں...؟)۔ فرمایا: اِنَّ رَبَّکَ یُحِبُّ الْحَمْدَ یعنی تمہارے رَبّ کو حَمْد بہت پسند ہے (لاؤ! سُناؤ...!!) ۔ چنانچہ حضرت اَسْود رَضِیَ اللہ عنہ نے اپنے لکھے ہوئے اشعار سُنانے شروع کیے ۔ فرماتے ہیں: میں اپنے اشعار پڑھ ہی رہا تھا کہ اتنے میں ایک لمبے قد کا شخص حاضِر ہوا، اس نے اندر آنے کی اِجازت چاہی، آپ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فورًا مجھے چُپ کروا دیا، اب وہ شخص اندر آیا، اپنی ضرورت کی جو بات مَحْبُوب صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم سے کرنی تھی، کی اور چلا گیا، حُضُور صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اشعار آگے پڑھو...!! میں نے پِھر پڑھنے شروع کر دئیے! تھوڑی ہی دَیْر گزری تھی کہ وہی شخص دوبارہ آیا، آپ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے پِھر چُپ کروا دیا۔ جب وہ چلا گیا تو پِھر آگے اشعار پڑھنے کی اجازت ملی۔ تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ آخر میں نے عرض کیا: یارسولَ اللہ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ! یہ کون شخص ہے، جب آتا ہے تو آپ مجھے چُپ کروا دیتے ہیں؟ فرمایا:
ہٰذَا عُمَرُ، ہٰذَا رَجُلٌ لَایُحِبُّ الْبَاطِلَ
یعنی: یہ عمر ہے، یہ وہ شخص ہے جو باطِل کو پسند نہیں کرتا۔ ([1])
یعنی میں تمہیں اِس لیے خاموش کروا رہا ہوں کہ کہیں تم اللہ پاک کی حَمْد میں کوئی غلطی کرو! میں تو رَحْمَةٌ لِّلْعَالَمِيْنَ ہوں، میں نَرْمی اور پیار سے غلطی درست کروا دُوں گا لیکن عمر نے اللہ پاک کی شان میں کوئی غلط لفظ سُن لیا تو اُس سے برداشت نہیں ہو سکے گا۔
فارِقِ حق و باطِل امامُ الہُدٰی تیغِ مَسْلُولِ شِدَّت پہ لاکھوں سلام([2])
وضاحت:فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ جو حق و باطل میں فرق کرنے والے، ہدایت کے امام ، دینِ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami