Share this link via
Personality Websites!
نے فرمایا: بَلِّغُوْا عَنِّیْ وَلَوْ اٰیَۃً یعنی میری طرف سے پہنچا دو اگر چِہ ایک ہی آیت ہو۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو! ہم ذرا غور کریں! ہم دِین کی جتنی باتیں جانتے ہیں، کیا وہ باتیں ہم دوسروں تک پہنچاتے ہیں؟ *کون نہیں جانتا کہ 5نمازیں فرض ہیں؟ کیا ہم دوسروں کو نماز کی دعوت دیتے ہیں؟ *کون نہیں جانتا کہ رمضان کے روزے فرض ہیں؟ کیا ہم روزے رکھنے کی دعوت دیتے ہیں؟ *کون نہیں جانتا کہ تِلاوتِ قرآن نیکی کا کام ہے؟کیا ہم تِلاوتِ قرآن کی دعوت دیتے ہیں؟ *کون نہیں جانتا کہ سُودی لَیْن دَیْن کرنا، گانے سننا، فلمیں ڈرامے دیکھنا، بےپردگی وغیرہ یہ سب گُنَاہ ہیں؟ کیا ہم اِن سے لوگوں کو منع کرتے ہیں؟ افسوس! ہماری اَکْثَرِیَّت ایسی ہے جو یہ کام نہیں کرتی(یعنی بہت ساری چیزوں کا پتہ ہونے کے باوجود بھی ہم نیکی کی دعوت عام کرنے سے مَحْرُوم رہتے ہیں)، ہم جتنا دِین جانتے ہیں، اتنا دوسروں تک پہنچاتے نہیں ہیں اور مزید عِلْمِ دین سیکھنے کی جستجو نہیں کرتے۔
حدیثِ پاک میں ہے: کسی نے حُضُورِ انور، مکے مدینے کے تاجوَر صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم سے پوچھا: بہترین بندہ کون ہے؟ فرمایا: اللہ پاک سے ڈرنے والا، صلہ رحمی (یعنی رشتے داروں کے ساتھ اچھا سلوک) کرنے والا، اچھی باتیں بتانے اور بُرائیوں سے روکنے والا۔([2])
امام حَسَن بَصَرِی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جو اچھی باتوں کا حکم دے، بُرائیوں سے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami