Share this link via
Personality Websites!
جب قاتلانہ حملہ ہوا، آپ شدید زخمی تھے، اس وقت لوگ آپ کی تیمار داری کے لیے آرہے تھے، ایک نوجوان حاضِر ہوا، اس نے تیمار داری کی، جب وہ جانے لگا تو آپ نے دیکھا اس کی شلوار ٹخنوں سے نیچے زمین پر گھسٹ رہی ہے، فرمایا: اسے واپس بُلاؤ! اسے واپس بلایا گیا۔ آپ نے پیار سے فرمایا: یَا اِبْنَ اَخِی! اِرْفَعْ ثَوْبَکَ فَاِنَّہٗ اَنْقٰی لَثَوْبِکَ وَ اَتْقٰی لِرَبِّکَ اے بھتیجے! کپڑا اُوپَر اُٹھاؤ! (یعنی ٹخنوں سے اُونچا رکھو!) یُوں تمہارے کپڑے صاف رہیں گے اور تمہارے رَبّ کے ہاں تقویٰ و پرہیزگاری کا ذریعہ بنیں گے۔ ([1])
سُبْحٰنَ اللہ! پیارے اسلامی بھائیو! آپ فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ کا جذبہ دیکھیے! زخم لگا ہے، شدید تکلیف میں ہیں، بسترِ مرگ پر ہیں، اس کے باوُجُود نیکی کی دعوت عام فرما رہے ہیں۔
اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ (پارہ:4،سورۂ آلِ عمران:110)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: (اے مسلمانو!) تم بہترین امت ہو جو لوگوں (کی ہدایت ) کے لیے ظاہر کی گئی، تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو ۔
مشہور مفسرِ قرآن، حکیم الاُمَّت مفتی اَحْمَد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: سارے مُسلمان مُبلِّغ ہیں،سب پر ہی فرض ہے کہ لوگوں کو اچھی باتوں کا حُکم دیں اور بُری باتوں سے روکیں۔([2]) ہمارے پیارے آقا و مولا، مدینے والے مصطفےٰ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم !
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami