Share this link via
Personality Websites!
کروڑوں درود ہوں۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
حدیثِ پاک میں ہے:اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّات اعمال کا دار و مدار نیّتوں پر ہے۔([1])
اے عاشقان ِ رسول! اچھّی اچھّی نیّتوں سے عمل کا ثواب بڑھ جاتا ہے۔ آئیے! بیان سننے سے پہلے کچھ اچھّی اچھّی نیّتیں کر لیتے ہیں، نیت کیجیے!*رضائے الٰہی کے لیے بیان سُنوں گا*بااَدَب بیٹھوں گا* خوب تَوَجُّہ سے بیان سُنوں گا*جو سُنوں گا، اُسے یاد رکھنے، خُود عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کروں گا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
حضرت اَسْوَد بِن سَرِیع رَضِیَ اللہ عنہ صحابئ رسول ہیں، قبیلہ بَنوتَمِیم سے تَعَلُّق رکھتے تھے، آپ اپنے قبیلے کے بہت مشہور و معروف شاعِر (Poet) تھے، چُونکہ مدینے سے دُور رہتے تھے،اِس لیے مدینہ پاک میں رہنے والے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم کے ساتھ ان کی زیادہ جان پہچان نہیں تھی۔ ان کی بہت پیاری عادتِ کریمہ تھی کہ اپنے اَشْعار محبوبِ ذیشان، مکی مدنی سلطان صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کو چیک کروایا کرتے تھے۔
روایت ہے: ایک مرتبہ آپ بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہوئے، عرض کیا: یارسولَ اللہ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم میں نے اللہ پاک کی حمد اور آپ کی نعتِ پاک لکھی ہے (حُضُور کو
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami