Share this link via
Personality Websites!
تَو یہ ہمارا اِمیج (Image) ہونا چاہیے، اپنے گھر میں، اپنی فیملی میں، گلی محلے میں، دوست احباب میں، اپنے اِرْد گِرْد بیٹھنے والوں میں ہماری شخصیت کا یہ معیار ہونا چاہیے، لوگوں کو پتا ہو کہ *یہ گانے پسند نہیں کرتا *یہ فلمیں نہیں دیکھتا *یہ غیبت نہیں سُنتا *یہ چغلی نہیں سنتا *اس کے سامنے کسی کی بُرائی نہیں کی جا سکتی *فُلاں کو گھر بُلانا ہے تو گانے باجے بند کرنے ہوں گے *ہمارے گھر کا ماحَوْل ایسا ہو، کوئی مہمان آئے تو اُسے مَعْلُوم ہو کہ اس گھر میں آ کر نمازیں پڑھنی پڑیں گی *یہاں میں موبائِل کا مِس یُوز نہیں کر سکتا۔
حضرت عمر فارُوقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ کا امیج دیکھیے کیسا پیارا تھا، انسان تَو انسان رہے، آپ کے خاندان والے تو خیر تھے ہی تقویٰ و پرہیزگاری والے، خُود بُرائیوں کی کان بدبخت شیطان پر آپ کا ایسا رُعب تھا کہ آپ کو دیکھ کر شیطان بھی رستہ بدل لیتا تھا۔ حدیثِ پاک میں ہے، پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: وَالَّذِيْ نَفْسِيِ بِيَدِهٖ، مَا لَقِيَكَ الشَّيْطَانُ سَالِكًا فَجًّا اِلَّا سَلَكَ فَجًّا غَيْرَ فَجِّكَ یعنی اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، اے عمر! شیطان کسی راستے پر تمہیں دیکھ لے تو راستہ بدل کر دوسرے راستے پر چلا جاتا ہے۔ ([1])
ایک حدیثِ پاک میں فرمایا: بیشک میں نے شیطان جنّوں اور شیطان(جیسی طبیعت والے) انسانوں کو عمر سے بھاگتے دیکھا ہے۔ ([2])
سُبْحٰنَ اللہ!یہ تاثِیر ہے حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ کی کہ جہاں آپ ہوں،
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami