Share this link via
Personality Websites!
اللہ عنہ نے حق کو باطل سے جدا کردکھایا۔([1])
آسمانوں میں آپ کا نام ’’فاروق ‘‘ہے
حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :میں مسجد میں بیٹھا جبریل امین سے باتیں کر رہا تھاکہ اچانک عمر بن خطاب آگئے۔ جبریل امین نے کہا:یَارَسُوْلَ اللہ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ! کیا یہ عمرتو نہیں ہیں ؟مَیں نے کہا:جی ہاں ۔اور اے جبریل! کیا زمین کی طرح آسمانوں میں بھی ان کا کوئی خاص نام ہے؟جبریل بولے:
اِنَّ اِسْمَہُ فِی السَّمَاءِ اَشْھَرُ مِنْ اِسْمِہٖ فِی الْاَرْضِ اِسْمُہٗ فِی السَّمَاءِ فَارُوْقٌ وَ فِی الْاَرْضِ عُمَرُ
ترجمہ: یَارَسُوْلَ اللہ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ! آسمانوں میں جو ان کا نام ہے وہ زمین کی نسبت زیادہ مشہور ہے، زمین میں ان کا نام عمر ہے اور آسمانوں میں ان کا نام فاروق ہے۔([2])
جنتی درخت کے پتوں پر آپ کا نام فاروق لکھا ہے
حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:
فِی الْجَنَّۃِ شَجَرَۃٌ مَا عَلَیْھَا وَرَقَۃٌ اِلَّا مَكْتُوْبٌ عَلَيْھَا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ اَبُوْ بَكْرِ نِ الصِّدِّیْقُ عُمَرُ الْفَارُوْقُ عُثْمَانُ ذُوْ النُّوْرَیْنِ
ترجمہ: جنّت میں ایک درخت ہے جس کے ہر پتے (every single leaf) پر یہ لکھا ہے: اللہ پاک کے سوا کوئی معبود نہیں ، مُحَمَّد صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم اللہ کے رسول ہیں ، ابوبکر صدّیق
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami