Share this link via
Personality Websites!
چھپ کر کیوں رہ رہے ہیں ؟ اُس رب کی قسم جس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہم ضرور باہر نکلیں گے۔چنانچہ ہم دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کو اس طرح باہر لے آئے کہ ہماری 2صفیں تھیں ، اگلی صف میں حضرت امیر حمزہ رَضِیَ اللہ عنہ اور پچھلی صف میں مَیں تھا۔ہم مسجدِ حرام میں داخل ہوئے تو کفار قریش نے ایک نظر مجھے اور دوسری نظر حضرت امیر حمزہ رَضِیَ اللہ عنہ کو دیکھا تو ان پر ایسا خوف طاری ہوا جو اس سے قبل کبھی نہ ہوا تھا۔اس دن خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے میرا نام فاروقرکھ دیا، کیونکہ اللہ پاک نے میرے سبب سے حق و باطل میں فرق فرمادیا۔([1])
دوسرے بر حق خلیفہ نائبِ میرِ حجاز شوکتِ اسلام کا وہ اک نشانِ امتیاز
نامِ نامی تھا عمر جن کا، لقب فاروق تھا پیکرِ عَزم و حَمِیّت، صاف ظاہر پاکباز
وضاحت:اللہ پاک کے حبیب صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کے دوسرے بر حق خلیفہ جن کا نام عمر اور لقب فاروق ہے، اِسلام کی شان و شوکت کا نشانِ امتیاز ہیں۔ آپ عزم و حوصلہ، دینی غیرت ، ظاہر وباطن کی پاکیزگی کےآئینہ دار تھے۔
اللہ پاک نے فارُوق لقب عطا کیا
حضرت نَزَّال بن سَبْرةَ رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک روز ہم نے مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ علیُّ الْمُرْتضیٰ رَضِیَ اللہ عنہ سے عرض کیا کہ ہمیں حضرت عمر بن خطاب رَضِیَ اللہ عنہ کے مُتَعَلِّق کچھ ارشاد فرمائیے۔ فرمایا : مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ وہ شخصیت ہیں جنہیں اللہ پاک نے فاروق لقب عطا فرمایا کیونکہ آپ رَضِیَ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami