Share this link via
Personality Websites!
مسلمان ہو چکا ہوں۔
اِس کے لیے آپ نے جو طریقہ اِخْتیار کیا، میں چند روایتیں جمع کر کے عرض کرتاہوں، آپ ایک غیر مسلم کے گھر گئے، دروازہ کھٹکھٹایا، وہ شخص باہَر آیا، آپ نے کہا: جانتے ہو میں مسلمان ہو چکا ہوں۔ اُس نے حیرانی سے کہا: واقعی؟ فرمایا: ہاں واقعی۔ یہ سُن کر اس نے کہا: عمر ایسا نہ کرو! یہ کہہ کر دروازہ بند کر لیا۔
اب پریشان ہوئے کہ یہ کیا بات ہوئی، اس نے تَو کچھ کہا ہی نہیں، دوسروں کو بتایا ہی نہیں۔ اب آپ قریش کے ایک اور بڑے سردار کے گھر گئے، دروازہ کھٹکھٹایا، وہ سردار باہَر نکلا، اسے بتایا کہ میں مسلمان ہو چکا ہوں، اس نے بھی آپ کو اسلام لانے سے منع کیا اور چُپ کر کے دروازہ بند کر لیا۔([1]) یُوں آپ ایک ایک دروازے پر جاتےرہے مگر جو مقصد تھا کہ پُورے مکّے میں میرے مسلمان ہونے کی دُھوم پڑ جائے، وہ حاصِل نہ ہوا پِھر آپ نے سوچا کہ اسلام کا سب سے بڑا دُشمن ابوجہل ہے، اس کے پاس چلتا ہوں، آپ اس کے گھر گئے، اسے بتایا تو وہ بھی بڑا بزدِل نکلا، اس نے بھی چُپ کر کے دروازہ بند کر لیا۔ ([2])
حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ کا مکّے میں ایک رُعْب تھا،اس لیے کوئی بھی آپ کو تکلیف پہنچانے کے لیے تیار نہیں ہو رہا تھا، سبھی آپ سے ڈرتے تھے۔ آپ کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں مکّے میں اپنے اِسْلام کا اِعْلان کروں تو کروں کیسے؟ آخر ایک ترکیب سمجھ آئی، آپ نے لوگوں سے پُوچھا: مَنْ اَنَمُّ النَّاسِ مکّے میں سب سے بڑا چغل خور کون ہے؟ بتایا گیا کہ فُلاں سب سے بڑا چغل خور ہے، آپ اس کے پاس پہنچے، فرمایا: جانتے ہو میں
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami