Share this link via
Personality Websites!
اور فَارُوق آپ کا لقب ہے۔
فَارُوق کا معنیٰ ہے: حق اور باطِل میں فرق کرنے والا۔ حضرت عمر رَضِیَ اللہ عنہ کی پاکیزہ طبیعت میں یہ بہت نِرالا پہلو تھا کہ آپ باطِل کو بالکل برداشت نہیں کر پاتے تھے۔
جب آپ نے اِسْلام قبول کیا، اُس وقت ابھی مکّہ پاک میں مشکلات تھیں، کفّارِ مکّہ مسلمانوں کو بہت تکلیفیں پہنچاتے تھے، اس لیے جو بھی نیا بندہ مسلمان ہوتا پیارے آقا صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم اسے فی الحال اپنا اِیْمان چھپائے رکھنے کا فرماتے تھے۔ روایت ہے: جب حضرت فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ نے کلمہ پڑھا تو پیارے آقا صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اُسْتُرْہُ اے عمر! اپنا اِیْمان چھپائے رکھو...!! آپ نے ادب سے عرض کیا: (یہ مجھ سے نہیں ہو گا)
وَالَّذِي بَعَثَك بِالْحَقِّ لَاَعْلَنْتُهُ كَمَا اَعْلَنْتُ الشِّرْكَ
اُس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے، جیسے میں شِرْک اِعْلانِیہ کرتا تھا، اب حق پرستی بھی اِعْلانِیَہ ہی کروں گا۔ ([1])
پیارے اسلامی بھائیو! اِس موقع پر ایک بڑا دِلچسپ واقعہ ہوا، حضرت فارُوقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ نے کلمہ تو دارِ ارقم (Dar-e-Arqam)میں پڑھا تھا، مکّے میں کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ آپ مسلمان ہو چکے ہیں۔ یہ بات آپ کو برداشت نہیں تھی۔ آپ حق پر تھے اور سب کو بتانا چاہتے تھے۔ طریقہ سوچ رہے تھے کہ ایسا کیا کِیَا جائے کہ لوگ جان لیں ؛ میں
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami