Share this link via
Personality Websites!
اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیّٖن
اَمَّا بَعْدُ! فَاَعُوْذُ بِاللہ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللہ وَعَلٰی آلِکَ وَاَصْحٰبِکَ یَاحَبِیْبَ اللہ
اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَانَبِیَّ اللہ وَعَلٰی آلِکَ وَاَصْحٰبِکَ یَانُوْرَ اللہ
نَوَیْتُ سُنَّتَ الْاِعْتِکَاف (ترجمہ: میں نے سُنَّت اعتکاف کی نِیَّت کی)
حضرت احمد بن ثابت رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میں قبلہ رُخ بیٹھ کر درودِ پاک کےموضوع پر مضمون ترتیب دے رہاتھا۔ اچانک مجھ پر غُنُو دگی طاری ہوئی اور میری آنکھ لگ گئی۔ میں نے خواب میں اللہ پاک کےمُقَرَّب فرشتوں*حضرت جبرائیل *حضرت میکائیل *حضرت اسرافیل *اور حضرت عزرائیل علیہمُ السَّلاَم کو دیکھا۔ (3 مقرب فرشتوں سے گفتگو کا ذکر کرنے کےبعد شیخ احمد بن ثابت رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) میں نے حضرت عزرائیل عَلَیْہِ السَّلَام سے عرض کیا: میں اللہ پاک اور اس کے پیارے حبیب صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کا واسطہ دےکر التجا کرتاہوں کہ آپ میری جان نکالتے وقت مجھ پر نرمی فرمائیں۔ (انہوں نے) فرمایا: رسول اکرم صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم پر کثرت سے درود ِپاک پڑھا کرو۔([1])
آس ہےکوئی نہ پاس ایک تمہاری ہے آس بس ہے یہی آسرا تم پہ کروڑوں درود([2])
وضاحت:یا رسولَ اللہ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ! آپ کے سوا میں نے کسی سے امید نہ لگائی ہے، نہ ہی کوئی ایسا ہے کہ اس سے امید لگائی جا سکے، مجھے تو بس آپ ہی کا آسرا و سہارا ہے، آپ پر
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami