Share this link via
Personality Websites!
دوسرے صحابی حضرت حذیفہ رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں:
لَمَّا اَسْلَمَ عُمَرُ كَانَ الْاِسْلَامُ كَالرَّجُلِ الْمُقْبِلِ لَا يَزْدَادُ اِلَّا قُوَّةً فَلَمَّا قُتِلَ عُمَرُ كَانَ الْاِسْلَامُ كَالرّجلِ الْمُدْبِر لَا يَزْدَادُ اِلَّا بُعْدًا
ترجمہ: جب حضرت عمر رَضِیَ اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا، اس وقت سے اِسْلام کی مثال ایسے تھی، جیسے کوئی شخص ہماری طرف آ رہا ہو، دِن بہ دِن اسلام کی قُوَّت بڑھ رہی تھی، جب آپ شہید ہو گئے، اب اسلام (کی حقّانِیّت اور سچائی میں نہیں بلکہ) غلبے میں کمی آنا شروع ہو گئی، اب اسلام ایسے تھا جیسے کوئی شخص ہم سے دُور جا رہا ہو، وہ ہر قدم پر دُور ہی دُور ہوتا چلا جاتا ہے۔([1])
آپ دیکھیے! حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ کی زندگی میں ایک بڑا مشن تھا اور آپ اس مشن کے ساتھ جڑے ہوئے کیسے تھے، جب تک آپ دُنیا میں موجود رہے، آپ کی ہر ہر سانس اِسْلام کو قُوّت، غلبہ اور ترقی دے رہی تھی۔
اچھا؛ آپ کو کیا لگتا ہے، جیسے ہم بازار سے بلب خرید کر گھر لگاتے ہیں، بٹن دباتے ہیں اور بلب روشنی دینے لگ جاتا ہے، کیا یہ مُعَاملہ بھی ایسے ہی تھا کہ مَعَاذَ اللہ ! حضرت فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ کو لا کر مسلمانوں کے بیچ میں کھڑا کر دیا تَو اسلام کو غلبہ مِل گیا، جونہی ہٹایا تو وہ غلبہ ختم ہو گیا...؟ نہیں...!! یہ زِندگی ہے، اسے ڈیزائن(Design) کرنا پڑتا ہے، حضرت فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ نے جب کلمہ پڑھا، اسی لمحے سے آپ نے اسلام کے غلبہ کے لیے کام شروع کر دیا، پِھر اس کے بعد آپ نے اپنی ایک ایک سانس کو ڈیزائن ایسے کیا کہ آپ کے ذریعے سے اِسْلام کو ہمیشہ غلبہ ہی ملتا چلا گیا *آپ حضرت فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ کی سیرت پڑھ کر دیکھیے! *آپ کو اِن کی زندگی میں پیوند لگا ہوا لباس مِل جائے گا *بُھوک کے سبب
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami