Share this link via
Personality Websites!
یہاں ایک تَو اِیْمان افروز بات یہ ہے کہ محبوب صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے دُعا کی تھی: یا اللہ پاک! ان دونوں میں سے جو تجھے محبوب ہے، اسے اِیْمان کی دولت عطا فرما۔ اس دُعا کے نتیجے میں جب ابوجہل کو ریجیکٹ(Reject) کر دیا گیا اور حضرت فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ کو اِیْمان کی دولت عطا کر دی گئی تو یہ لازمی طور پر ثابت ہو گیا کہ حضرت فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ اللہ پاک کے محبوب بندے ہیں۔
رسولُ اللہ نے فاروق کو اللہ سے مانگا
عطاءِ ربِّ سُبْحاں حضرتِ فاروقِ اعظم ہیں
چُنا اس پاک نے دیں کیلئے اس پاک ستھرے کو
حبیبِ دین داراں حضرتِ فاروقِ اعظم ہیں([1])
دوسرے نمبر پر یہ دیکھیے! پیارے آقا صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے حضرت فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ کو اللہ پاک سے کیوں مانگا...؟ غلبۂ اِسْلام کے لیے۔ یہ پوائنٹ(Point) ہے، یہ وہ مشن(Goal) ہے جس پر حضرت فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ کی پُوری زندگی کھڑی ہوتی ہے۔
صحابئ رسول حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں:
مَا زِلْنَا اَعِزَّۃً مُنْذُ اَسْلَمَ عُمَرُ
یعنی جس لمحے حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ نے اِسْلام قبول کیا، اس وقت سے ہم مسلسل غلبہ ہی پاتے رہے (کبھی ایک لمحے کے لیے بھی ہم میں کمزوری نہیں آئی)۔([2])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami