Share this link via
Personality Websites!
کوئی ٹیچر بننا چاہے گا، کوئی کچھ اور بننا چاہے گا۔ دوسرا سُوال کیجیے! کیوں بننا چاہتے ہو؟ اس کیوں کا جواب شاید کسی کے پاس نہیں ہو گا۔ ابھی بیٹھے بیٹھے دِل ہی دِل میں اپنے آپ سے سُوال کر لیجیے! میں کیوں زندہ ہوں...؟ شاید ہمارے پاس اس کا بھی ایک ہی جواب ہو گا کہ حضرت ملک الموت علیہ السَّلام ابھی تشریف نہیں لائے، اس لیے زندہ ہوں، وہ لینے آجائیں گے تو میں چلا جاؤں گا۔ چوٹ کرنے کے لیے عرض کر رہا ہوں، ویسے تو وہ جب تشریف لائیں گے، ہمیں جانا ہی پڑے گا، بہرحال! ہمارے پاس زندگی میں عموماً کوئی مشن(Goal) نہیں ہوتا، کوئی مقصد نہیں ہوتا۔ یہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔ حضرت فارُوقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ کی سیرتِ پاک کی روشنی میں اس کا حَلْ دیکھیے!
فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ کی زندگی کا مقصد
ابھی فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ نے اِسْلام قبول نہیں کیا تھا، اس سے پہلے پیارے آقا صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے دُعا کی:
اَللّٰهُمَّ اَعِزَّ الاِسْلَامَ بِاَحَبِّ هٰذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ اِلَيْكَ بِاَبِي جَهْلٍ اَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ
ترجمہ: اے اللہ پاک! 2بندے ہیں: (1):ابوجہل (2):عمر بن خطّاب۔ ان دونوں میں سے جو تیرا مَحْبُوب ہے، اس کے ذریعے اسلام کو غلبہ عطا فرما۔([1])
ابھی ایک دِن بھی نہیں گزرا تھا کہ حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ نے اِیْمان قبول کر لیا۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami