Share this link via
Personality Websites!
نہیں جاؤ گے؟
یہ بہت گہرا سُوال ہے جو قرآن ہم سے پُوچھ رہا ہے: کیا سمجھتے ہو، تمہیں عَبَث پیدا کیا گیا ہے۔ عَبَثْ بہت اَہَم لفظ ہے، اس کے معنیٰ میں گہرائی ہے۔ اِنگلش میں اسے Purposelessnessکہتے ہیں۔ یعنی ایسا کام جس کا کوئی مقصد ہی نہ ہو۔([1]) *ہمارے گھروں میں بچے کھیلتے ہیں، یہ عَبَثْ نہیں ہے، اس میں نشو و نُما کا ایک پہلو موجود ہے *ہم ورزش کرتے ہیں، یہ بھی عَبَثْ نہیں ہے، اس میں صحت مندی کا پہلو موجود ہے، مثال کے طَور پر ایک آدمی نے گاڑی نکالی، 5 ہزار کا تیل ڈلوایا اور نکل پڑا، گاڑی چلاتا جا رہا ہے، چلاتا جا رہا ہے، جب تھک گیا تو واپس گھر آ گیا۔ کچھ بھی نہیں کیا، نہ کہیں رُکا، نہ کہیں پہنچا، نہ کچھ خریدا، بَس یونہی بےوجہ 5 ہزار کا تیل جلا کر واپس آ گیا۔ یہ عَبَثْ ہے۔ یعنی ایک ایسا سَفَر جس کی کوئی منزل نہیں، ایسا کام جس کا کوئی نتیجہ ہی نہیں، اسے عَبَثْ کہیں گے۔ قرآن ہم سے پُوچھ رہا ہے: کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہیں عَبَثْ پیدا کیا گیا ہے...؟ بَس تم دُنیا میں آئے ہو، جیتے رہو گے، پِھر مر جاؤ گے، مٹی میں دفن ہو جاؤ گے، پِھر کہانی ختم ہو جائے گی...؟
وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ(۱۱۵)
(پارہ:18، سورۂ مومنون:115)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان : اور(کیا) تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاؤ گے؟
کیا تم نے پلٹ کر واپس نہیں آنا، اللہ پاک کے حُضُور اپنے لمحے لمحے کا جواب نہیں دینا...؟ نہیں...!! ایسا نہیں ہے، اس کائنات میں اَصْل ایک تم انسان ہی تو ہو، جنہیں بامعنیٰ مخلوق بنایا گیا ہے، یہ ساری مخلوقات، یہ پہاڑ، یہ ہوا، یہ درخت، یہ چرند، یہ پرند، چاند، سورج، ستارے، یہ سب کچھ تَو انسان کی خِدْمت کے لیے بنایا گیا ہے، اَصْل معنویت
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami